آیا تھا میرے دل میں جو مہمان کی طرح
Poet: Qasim Baba By: Qasim baba, Slough, Londonآیا تھا میرے دل میں جو مہمان کی طرح
رخصت ہوا وہ شعلہ و طوفان کی طرح
کہتا ھے ہجر میں چھپی موجِ حیات ھے
غم بھی دیے ہیں اُس نے تو احسان کی طرح
وہ شخص جو کبھی میرا پرسانِ حال تھا
گزرا میرے قریب سے انجان کی طرح
اُس نے بھی اپنے عہد کو آخر بھلا دیا
رہتا تھا میرے دل میں جو ایمان کی طرح
کچھ خواب وقتِ رخصت بھولا تھا تیرے در پر
لوٹا دے میرے خواب میرے سامان کی طرح
قاسم رہا میں عمر بھر اُس کے ساتھ یوں
کمرے میں ایک کاغذی گلدان کی طرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






