Poetries by R.K Jazeb
ضبط ٹوٹا تو خا موشی کا اختتام ھوا ضبط ٹوٹا تو خاموشی کا پھر اختتام ھوا
ناں چاھتے ھوئے بھی وہ مجھ سے ہمکلام ھوا
وہ گفتگؤ تھی جو دائرے میں مقید رہی
لفظ بولے تو وہ بھی لہجےسے بےنیام ھوا
عمر تنہائی کی دہلیز پہ کٹ جاتی مگر
اسکی دستک ہی میرے جینے کا پیغام ھوا
بڑی مشکل ھے وہ خود سے جدا ھو جاتا
اسکی انا سے ہی اسکے غرور کا انہدام ھوا R.K.JAZEB
ناں چاھتے ھوئے بھی وہ مجھ سے ہمکلام ھوا
وہ گفتگؤ تھی جو دائرے میں مقید رہی
لفظ بولے تو وہ بھی لہجےسے بےنیام ھوا
عمر تنہائی کی دہلیز پہ کٹ جاتی مگر
اسکی دستک ہی میرے جینے کا پیغام ھوا
بڑی مشکل ھے وہ خود سے جدا ھو جاتا
اسکی انا سے ہی اسکے غرور کا انہدام ھوا R.K.JAZEB
سلگتی شب کی آنچ پر کیسے سفر کریں سلگتی شب کی آنچ پر کیسے سفر کریں
تاریکیوں کے شور میں اب کیسے سحر کریں
شدت سے یاد آتی ھے وہ گہری حسین شام
ماضی کے اس نگر کو اب کیسے امر کریں
رسوائیوں کی لاش اٹھاتے ھوئے گزری ھے زندگی
وقت نزع کے عالم میں خود کو معتبر کریں
اب مجھ کو شاد رکھے گا خود ہی میرا وجود
دل سے غبار جھاڑ کر اب اک نیا سفر کریں R.K.JAZEB
تاریکیوں کے شور میں اب کیسے سحر کریں
شدت سے یاد آتی ھے وہ گہری حسین شام
ماضی کے اس نگر کو اب کیسے امر کریں
رسوائیوں کی لاش اٹھاتے ھوئے گزری ھے زندگی
وقت نزع کے عالم میں خود کو معتبر کریں
اب مجھ کو شاد رکھے گا خود ہی میرا وجود
دل سے غبار جھاڑ کر اب اک نیا سفر کریں R.K.JAZEB
ضبط کرنے کا سلیقہ تو سیکھا دے کوئی ضبط کرنے کا سلیقہ تو سیکھا دے کوئی
میرے چہرے سے جمی راکھ ھٹا دے کوئی
میری آنکھوں میں چھپے غم کے سمندر دیکھو
ڈوبتی کشتی کو کسی ساحل سے ملا دے کوئی
بھولی بھٹکی ھوئی یادوں سے کنارا ناں کیا
ماضی کے زخموں کو میرے دل سے مٹا دے کوئی
رخت سفر باندھ لیا طوفان کے اندیشے ہیں
راہ دکھتی ہی نہیں اک شمع تو جلا دے کوئی R.K.JAZEB
میرے چہرے سے جمی راکھ ھٹا دے کوئی
میری آنکھوں میں چھپے غم کے سمندر دیکھو
ڈوبتی کشتی کو کسی ساحل سے ملا دے کوئی
بھولی بھٹکی ھوئی یادوں سے کنارا ناں کیا
ماضی کے زخموں کو میرے دل سے مٹا دے کوئی
رخت سفر باندھ لیا طوفان کے اندیشے ہیں
راہ دکھتی ہی نہیں اک شمع تو جلا دے کوئی R.K.JAZEB
گفتار کا جادو یوں اس میں رہا محو کہ تھا
گفتار کا جادو
آنکھیں بھی نہ جھپکیں تھیں کہ تھا
دیدار کا جادو
اظہار محبت کا وہ طریقہ بھی عجب تھا
لب خاموشی میں ڈوبے تھے کہ تھا
اقرا کا جادو
زلفیں بھی عجب تھیں کہ مہک آتی تھی فضا میں
مدھوش ھوئے بادل کہ تھا
مہکار کا جادو
بہکے ھوئے خوابوں میں تھے جذبات سہانے
رستے بھی امر ھو گئے کہ تھا
سرکار کا جادو R.K.JAZEB
گفتار کا جادو
آنکھیں بھی نہ جھپکیں تھیں کہ تھا
دیدار کا جادو
اظہار محبت کا وہ طریقہ بھی عجب تھا
لب خاموشی میں ڈوبے تھے کہ تھا
اقرا کا جادو
زلفیں بھی عجب تھیں کہ مہک آتی تھی فضا میں
مدھوش ھوئے بادل کہ تھا
مہکار کا جادو
بہکے ھوئے خوابوں میں تھے جذبات سہانے
رستے بھی امر ھو گئے کہ تھا
سرکار کا جادو R.K.JAZEB
بہت سے خوابوں سے روٹھو گے تم آؤ تو نظاروں میں دلکشی سی رھے
ھوا بھی مہکے اور فضاؤں میں تازگی سی رھے
نظر نظر سے ملاؤ تو بات بن جاتی ھے
تیری حسین نگاھوں سے دوستی سی رھے
میں رات بھر تیرے آنے کا انتظار کرتا ھوں
تو لوٹ آئے تو سانسوں میں زندگی سی رھے
یوں دھندلے دھندلے سے تصور سے آنکھ کھل جائے
جو چہرہ آنکھوں میں آئے تو روشنی سی رھے
گراؤ بجلی نہ میرے دل کے شکستہ خانوں پر
بہت سے خوابوں سے روٹھو گے تو بے بسی رھے R.K JAZEB
ھوا بھی مہکے اور فضاؤں میں تازگی سی رھے
نظر نظر سے ملاؤ تو بات بن جاتی ھے
تیری حسین نگاھوں سے دوستی سی رھے
میں رات بھر تیرے آنے کا انتظار کرتا ھوں
تو لوٹ آئے تو سانسوں میں زندگی سی رھے
یوں دھندلے دھندلے سے تصور سے آنکھ کھل جائے
جو چہرہ آنکھوں میں آئے تو روشنی سی رھے
گراؤ بجلی نہ میرے دل کے شکستہ خانوں پر
بہت سے خوابوں سے روٹھو گے تو بے بسی رھے R.K JAZEB
آنسو پلکوں سے ہی نچوڑ دئیے آئینے دل کے سارے توڑ دئیے
آنسو پلکوں سے ہی نچوڑ دئیے
غم کی ساری فضاؤں سے ھم نے
رشتے وفاؤں کے سارے جوڑ دئیے
دعوی اس نے بھی کیا تھا چاھت کا
میری آنکھوں میں زخم چھوڑ دئیے
میرے قاتل سے ہی دوستی کر لی
نقاب چہرے پہ یوں اوڑھ دئیے
زخم جلنے سے تیری یاد رھے
آبلے پاؤں کے سارے پھوڑ دئیے R.K JAZEB
آنسو پلکوں سے ہی نچوڑ دئیے
غم کی ساری فضاؤں سے ھم نے
رشتے وفاؤں کے سارے جوڑ دئیے
دعوی اس نے بھی کیا تھا چاھت کا
میری آنکھوں میں زخم چھوڑ دئیے
میرے قاتل سے ہی دوستی کر لی
نقاب چہرے پہ یوں اوڑھ دئیے
زخم جلنے سے تیری یاد رھے
آبلے پاؤں کے سارے پھوڑ دئیے R.K JAZEB
محبت کی نظر ڈالی تو گلزار بن گئے محبت کی نظر ڈالی تو گلزار بن گئے
نفرت کے بیج بوئے تو انگار بن گئے
یہ حسن تھا یا تیری نظر کا کمال تھا
ھم بھی تری جھلک کے طلبگار بن گئے
دامن کلیوں سے بھر کر آئے تھے شہر میں
تیری گلی میں آ کر سبھی خار بن گئے
ھم سے الجھ کر تو نے خود کو گنوا دیا
دشمن جو تھے ہمارے ترے یار بن گئے
تھا عاشقی کا شوق مگر ٹہری تھی بے بسی
اب عاشقوں کے سب ڈیرے بازار بن گئے R.K JAZEB
نفرت کے بیج بوئے تو انگار بن گئے
یہ حسن تھا یا تیری نظر کا کمال تھا
ھم بھی تری جھلک کے طلبگار بن گئے
دامن کلیوں سے بھر کر آئے تھے شہر میں
تیری گلی میں آ کر سبھی خار بن گئے
ھم سے الجھ کر تو نے خود کو گنوا دیا
دشمن جو تھے ہمارے ترے یار بن گئے
تھا عاشقی کا شوق مگر ٹہری تھی بے بسی
اب عاشقوں کے سب ڈیرے بازار بن گئے R.K JAZEB
تجھ سے وہ قربت نہ رھی عجیب موسم ھے کہ تجھ سے وہ قربت نہ رہی
میرے نصیب میں جو برسی تھی وہ بارش نہ رہی
بھٹک سے جاتے تھے منزل پر پہنچ کر اکثر
میں اس کو کیسے ملوں اب وہ مسافت نہ رہی
بے وفائی وہ سمجھا تھا میری وفاء کے جذبوں کو
تیری وصل کی شب میں اب وہ محبت نہ رہی
میں ڈھونڈ لاتا محبت کی کھوئی ھوئی سچائیاں
پر تیری فطرت میں وہ سہنے کی عادت نہ رہی R.K Jazeb
میرے نصیب میں جو برسی تھی وہ بارش نہ رہی
بھٹک سے جاتے تھے منزل پر پہنچ کر اکثر
میں اس کو کیسے ملوں اب وہ مسافت نہ رہی
بے وفائی وہ سمجھا تھا میری وفاء کے جذبوں کو
تیری وصل کی شب میں اب وہ محبت نہ رہی
میں ڈھونڈ لاتا محبت کی کھوئی ھوئی سچائیاں
پر تیری فطرت میں وہ سہنے کی عادت نہ رہی R.K Jazeb
بڑے سلیقے سے وہ جھوٹ بولتا رھا بڑے سلیقے سے وہ جھوٹ بولتا رھا
مجھے میری نگاھوں سے وہ تولتا رھا
میں کسطرح اسکے وعدے پہ اعتبار کرتا
جو ہر گلی میں بہکتا رہا اور ڈولتا رھا
اسکی یادوں میں گرتے جو موتی آنکھوں سے
وہ بے رحمی سے اپنے پاوں تلے رولتا رھا
جو لفظ بڑی محبت سے ادا کئیے تھے ھم نے
بڑے قرینے سے وہ ان باتوں میں زھر گھولتا رھا R.K JAZEB
مجھے میری نگاھوں سے وہ تولتا رھا
میں کسطرح اسکے وعدے پہ اعتبار کرتا
جو ہر گلی میں بہکتا رہا اور ڈولتا رھا
اسکی یادوں میں گرتے جو موتی آنکھوں سے
وہ بے رحمی سے اپنے پاوں تلے رولتا رھا
جو لفظ بڑی محبت سے ادا کئیے تھے ھم نے
بڑے قرینے سے وہ ان باتوں میں زھر گھولتا رھا R.K JAZEB
رنگوں سے کائینات کو سجاتا رھا ھوں میں رنگوں سے کائنات کو سجاتا رہا ھوں میں
بجھتے ھوئے چراغ بھی جلاتا رہا ھوں میں
اندر جو ایک آگ تھی سلگاتی رہی مجھے
یوں انگلیوں سے راکھ کو ہٹاتا رہا ھوں میں
تھی وقت کے کینوس پہ دھول سی جمی ہوئی
بگڑی ھوئی تھیں صورتیں بہلاتا رہا ھوں میں
تھے قافلے بھی دور اور منزل تھی بے نشاں
الجھے ھوئے تھے راستے سلجھاتا رہا ھوں میں
اجڑے ھوئے تھے گلشن اور کلیوں پہ تھی خزاں
کاغذ کے پھولوں سے آنگن کو مہکاتا رہا ھوں میں R.K Jazeb
بجھتے ھوئے چراغ بھی جلاتا رہا ھوں میں
اندر جو ایک آگ تھی سلگاتی رہی مجھے
یوں انگلیوں سے راکھ کو ہٹاتا رہا ھوں میں
تھی وقت کے کینوس پہ دھول سی جمی ہوئی
بگڑی ھوئی تھیں صورتیں بہلاتا رہا ھوں میں
تھے قافلے بھی دور اور منزل تھی بے نشاں
الجھے ھوئے تھے راستے سلجھاتا رہا ھوں میں
اجڑے ھوئے تھے گلشن اور کلیوں پہ تھی خزاں
کاغذ کے پھولوں سے آنگن کو مہکاتا رہا ھوں میں R.K Jazeb
قتل کرنے کا سامان لئیے بیٹھے ھیں قتل کرنے کا سامان لئیے بیٹھے ہیں
کتنے ظالم ہیں انجان بنے بیٹھے ہیں
ھاتھ میں خنجر اور چہرے پہ سکوں کتنا
بنتے معصوم ہیں حیران کئیے بیٹھے ہیں
مجھ سے نفرت ھے مگر کہتے ہیں محبت اسکو
دعوی غلامی کا ھے مگر سلطان بنے بیٹھے ہیں
رسم دنیا بھی نبھانے کا یہ طریقہ تو نہیں
خود ھوں خوش اوروں کو پریشان کئیے بیٹھے ہیں
کر کے سودا محبت کا نفرتوں کو لگے ہیں بیچنے
ھر گلی ھر موڑ پر یہی دوکان کئیے بیٹھے ہیں R.K Jazeb
کتنے ظالم ہیں انجان بنے بیٹھے ہیں
ھاتھ میں خنجر اور چہرے پہ سکوں کتنا
بنتے معصوم ہیں حیران کئیے بیٹھے ہیں
مجھ سے نفرت ھے مگر کہتے ہیں محبت اسکو
دعوی غلامی کا ھے مگر سلطان بنے بیٹھے ہیں
رسم دنیا بھی نبھانے کا یہ طریقہ تو نہیں
خود ھوں خوش اوروں کو پریشان کئیے بیٹھے ہیں
کر کے سودا محبت کا نفرتوں کو لگے ہیں بیچنے
ھر گلی ھر موڑ پر یہی دوکان کئیے بیٹھے ہیں R.K Jazeb
روٹھ جانے کی بات کرتے ھو روٹھ جانے کی بات کرتے ھو
کیوں ستانے کی بات کرتے ھو
جل جائیں گے اس آتش میں صنم
ھم کو آزمانے کی پات کرتے ھو
کسطرح تیری زلفوں سے کھیلیں
پھر سے بہلانے کی بات کرتے ھو
دے کر جھانسہ دوستی کا ھم کو
ہمیں جلانے کی بات کرتے ھو
بند کر کے دروازہ اپنے گھر کا تم
لوٹ جانے کی بات کرتے ھو
زخم دیتے ھو ہر گھڑی ھم کو
پھر مسکرانے کی بات کرتے ھو
کیسے آئیں تیری گلی میں جاذب
کیوں رلانے کی بات کرتے ھو
میڈم نور جہاں کو ٹربیؤٹ پیش کرتا ھوں ۔۔۔۔۔ جاذب ۔۔۔۔ جدہ R.K Jazeb
کیوں ستانے کی بات کرتے ھو
جل جائیں گے اس آتش میں صنم
ھم کو آزمانے کی پات کرتے ھو
کسطرح تیری زلفوں سے کھیلیں
پھر سے بہلانے کی بات کرتے ھو
دے کر جھانسہ دوستی کا ھم کو
ہمیں جلانے کی بات کرتے ھو
بند کر کے دروازہ اپنے گھر کا تم
لوٹ جانے کی بات کرتے ھو
زخم دیتے ھو ہر گھڑی ھم کو
پھر مسکرانے کی بات کرتے ھو
کیسے آئیں تیری گلی میں جاذب
کیوں رلانے کی بات کرتے ھو
میڈم نور جہاں کو ٹربیؤٹ پیش کرتا ھوں ۔۔۔۔۔ جاذب ۔۔۔۔ جدہ R.K Jazeb
ھم سے بچھڑو گے تو کہیں اور نہ جا پاؤ گے ھم سے بچھڑو گے تو کہیں اور ناں جا پاؤ گے
خاک ھو جاؤ گے مگر ھم کو ناں بھلا پاؤ گے
میں نے جکڑا ھے تمہیں اپنے جنوں میں ایسے
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے نہ مٹ پاؤ گے
میرے جزبوں کی حقیقت کو سمجھ لو تم اگر
پھران بے خواب نگاھوں کو ناں سلا پاؤ گے
راہ عشق کانٹوں کا مسکن ھے کوئی پھول نہیں
پتھروں کی راہیں ہیں یہاں مر کے بھی نہ گزر پاگے
میرے زخموں کا مداوا بھی کرو تو کیا حاصل
تم اس جدائی کے سبب کو ناں سہہ پاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ R.K Jazeb
خاک ھو جاؤ گے مگر ھم کو ناں بھلا پاؤ گے
میں نے جکڑا ھے تمہیں اپنے جنوں میں ایسے
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے نہ مٹ پاؤ گے
میرے جزبوں کی حقیقت کو سمجھ لو تم اگر
پھران بے خواب نگاھوں کو ناں سلا پاؤ گے
راہ عشق کانٹوں کا مسکن ھے کوئی پھول نہیں
پتھروں کی راہیں ہیں یہاں مر کے بھی نہ گزر پاگے
میرے زخموں کا مداوا بھی کرو تو کیا حاصل
تم اس جدائی کے سبب کو ناں سہہ پاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ R.K Jazeb
اچھا لگا مجھے تیرا دھیرے سے مسکرانا
اچھا لگا مجھے
اور پلو میں منہ دبانا
اچھا لگا مجھے
تیری محفل میں آ گئے
تیرے من پہ چھا گئے
پر تیرا نظر چرانا
اچھا لگا مجھے
جھلمل ستارہ آنکھیں
بے نام الجھی سانسیں
رک رک کر قدم بڑھانا
اچھا لگا مجھے
تھیں شوخیاں ھوا میں
اور مہکار تھی فضا میں
تیرا زلفؤں کو یوں لہرانا
اچھا لگا مجھے R.K Jazeb
اچھا لگا مجھے
اور پلو میں منہ دبانا
اچھا لگا مجھے
تیری محفل میں آ گئے
تیرے من پہ چھا گئے
پر تیرا نظر چرانا
اچھا لگا مجھے
جھلمل ستارہ آنکھیں
بے نام الجھی سانسیں
رک رک کر قدم بڑھانا
اچھا لگا مجھے
تھیں شوخیاں ھوا میں
اور مہکار تھی فضا میں
تیرا زلفؤں کو یوں لہرانا
اچھا لگا مجھے R.K Jazeb
اب شور مچاتے ھوئے ہیں وقت کے فرعون زندگی تیرے تصور میں الجھتی ھوئی اک شام
سہمی ھوئی اس رات میں ھے درد کا پیغام
ھیں خوف کے صحرا میں بیتے ھوئے چند پل
آنکھوں کی یہ وحشت بھی کر دی ھے تیرے نام
اب گھر میں سکوں ھے نہ ٹھنڈک ھے صحن میں
ھر لمحہ ھے اب دشت کی تنہائی میں قیام
اب شور مچاتے ھوئے ہیں وقت کے فرعون
دکھتی ھوئی رگوں میں ھے سورج کا کہرام R.K Jazeb
سہمی ھوئی اس رات میں ھے درد کا پیغام
ھیں خوف کے صحرا میں بیتے ھوئے چند پل
آنکھوں کی یہ وحشت بھی کر دی ھے تیرے نام
اب گھر میں سکوں ھے نہ ٹھنڈک ھے صحن میں
ھر لمحہ ھے اب دشت کی تنہائی میں قیام
اب شور مچاتے ھوئے ہیں وقت کے فرعون
دکھتی ھوئی رگوں میں ھے سورج کا کہرام R.K Jazeb
تجھ سے شناسائی ھے ذکر کیسے کریں تجھ سے شناسائی ھے
ہر بات پہ سب کہتے ہیں کہ تو ہرجائی ھے
تیری گلی میں نہیں آنا یہ سوچ لیا ھم نے
آ کے ملنا بھی تو محبت کی رسوائی ھے
بات کرتے ہیں سب لوگ مطلب کی ھم سے
گلہ ھم بھی کریں تو پھر جگ ہنسائی ھے
جھوٹے لوگ ہیں اور جھوٹے سب عہدوپیماں
ھر اک موڑ پہ کھڑا اک نیا تماشائی ھے
کچھ تو کہا ھو گا تم نے جو بات پھیلی گئی
اب تو احباب میں بھی اپنی رسوائی ھے
R.K Jazeb
ہر بات پہ سب کہتے ہیں کہ تو ہرجائی ھے
تیری گلی میں نہیں آنا یہ سوچ لیا ھم نے
آ کے ملنا بھی تو محبت کی رسوائی ھے
بات کرتے ہیں سب لوگ مطلب کی ھم سے
گلہ ھم بھی کریں تو پھر جگ ہنسائی ھے
جھوٹے لوگ ہیں اور جھوٹے سب عہدوپیماں
ھر اک موڑ پہ کھڑا اک نیا تماشائی ھے
کچھ تو کہا ھو گا تم نے جو بات پھیلی گئی
اب تو احباب میں بھی اپنی رسوائی ھے
R.K Jazeb