روٹھ جانے کی بات کرتے ھو
Poet: R.K Jazeb By: R.K Jazeb, Jeddahروٹھ جانے کی بات کرتے ھو
کیوں ستانے کی بات کرتے ھو
جل جائیں گے اس آتش میں صنم
ھم کو آزمانے کی پات کرتے ھو
کسطرح تیری زلفوں سے کھیلیں
پھر سے بہلانے کی بات کرتے ھو
دے کر جھانسہ دوستی کا ھم کو
ہمیں جلانے کی بات کرتے ھو
بند کر کے دروازہ اپنے گھر کا تم
لوٹ جانے کی بات کرتے ھو
زخم دیتے ھو ہر گھڑی ھم کو
پھر مسکرانے کی بات کرتے ھو
کیسے آئیں تیری گلی میں جاذب
کیوں رلانے کی بات کرتے ھو
میڈم نور جہاں کو ٹربیؤٹ پیش کرتا ھوں ۔۔۔۔۔ جاذب ۔۔۔۔ جدہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






