قتل کرنے کا سامان لئیے بیٹھے ھیں
Poet: R.K Jazeb By: R.K Jazeb, Jeddahقتل کرنے کا سامان لئیے بیٹھے ہیں
کتنے ظالم ہیں انجان بنے بیٹھے ہیں
ھاتھ میں خنجر اور چہرے پہ سکوں کتنا
بنتے معصوم ہیں حیران کئیے بیٹھے ہیں
مجھ سے نفرت ھے مگر کہتے ہیں محبت اسکو
دعوی غلامی کا ھے مگر سلطان بنے بیٹھے ہیں
رسم دنیا بھی نبھانے کا یہ طریقہ تو نہیں
خود ھوں خوش اوروں کو پریشان کئیے بیٹھے ہیں
کر کے سودا محبت کا نفرتوں کو لگے ہیں بیچنے
ھر گلی ھر موڑ پر یہی دوکان کئیے بیٹھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






