Raqs Main Aik Aik Lamha Hai

Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sanglahill

Dasht Hai,Raasta,Ya Qariya Hai
Jabaja Tera Aks Bikhra Hai

Shaam Masti Main Hai,Fiza Khamosh
Ser Ko Wo Zaroor Nikla Hai

Raat Baqi Hai,Kya Karoon Hamdam
Dar Rha Hoon,Bohat Andhera Hai

Masheenon Main Guzar Rhi Hai Hyaat
Mur Ke Dekhoon Tu Aik Sehra Hai

Saans Ki Chand Gihain Baqi Hain
Saamnay Khwahishonn Ka Darya Hai

Her Ghari Deta Hai Rooh Per Dastak
Qurb E Dil Main Ye Kon Rehta Hai?

Teri Yaadain Na Hon Jo Sath Meray
Zindgi Ka Safar Adhoora Hai

Aaj Bhi Wahshatain Hain Lehron Main
Aaj Bhi Ghara Tera Kacha Hai

Girtay Jaatay Hain Shajar Se Pattay
Fiza Main Tehniyon Ka Noha Hai

Tera Her Pehlu,Mukammal Pehlu
Justajoo Ne Tujhay Tarasha Hai

Ik Takarrum Hai Tere Parto Ka
Ba Vazoo Ho Ke Tujhay Socha Hai

Fiza Main Siskiyaan Si Pheli Hain
Phool Koi Lamha Pehlay Bikhra Hai

Nagihaan Aaj Mil Gya Koi
Raqs Main Aik Aik Lamha Hai

Jis Ne Ghao Lagaay Hain Dil Per
Wohi Zalim Mera Maseeha Hai

Ai Meri Jaan Aa Ke Dekh Zara
Tera Nawaz Aaj Tanha Hai

Rate it:
Views: 1002
12 Nov, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL