Shaam Hote Hi Chiragon Ko Bujha Deta Hoon
Poet: M.Z By: M.Z, karachiShaam Hote Hi Chiragon Ko Bujha Deta Hoon
Yeh Dil Hi Kaafi Hai Teri Yaad Main Jalne Ke Liye
Yeh Teri Bhi Aankhon Ka Qusur Hai
Main Tanha Gunahgar To Nahi
Tu Is Tarah Se Mere Dil Main Shamil Hai
Jahan Bhi Jaoon Lagta Hai Teri Mahfil Hai
Duniya Bhar Ki Khushiyan Hamare Saath Chali
Qadam Mila Ke Jo Hamare Saath Aap Chali
Haath Deewane Ke De Allah Kuch Aisi Qalam
Aasman Par Likh Ke Jaoon Hai Unhi Se Pyaar Hai
Dil Mein Tumharey Pyaar Key Jaltey To Hain Chirag
Mana Key In Ki Roshni Tum Par Ayaan Nahi
Na Tum Bewafa Ho, Na Hum Bewafa Thay
Magar Kya Karain Apni Rahain Juda Hain
Saamne Baithe Raho Dil Ko Qaraar Aa’aegaa
Jitnaa Dekhenge Tumhein Utnaa Hi Pyaar Aa’aegaa
Mohabbat Kar Ke Dekhi To, Mohabbat Ko Pehchana Hai
Wafa Bus Naam Ki Hai, Be-Wafaai Ka Fasana Hai
Hai Kuch Baat Mo-Min Jo Chaa Gaye Khamoshi
Kis Bout Ko De Diya Dil, Kyon Bout Se Ban Gaye Ho
Dil Ki Bechaen Umangon Pe Karam Farmaao
Itna Ruk Ruk Ke Chalogi To Qayamat Hogi
Raat Ko Jalte Diye Bhi Din Mai Bujh Jaya Karte Hai
Aur Ek Hum Hain Jo Ki Tere Pyar Me Din Raat Jala Karte Hai
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






