Sumandar Mein Utarta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Poet: By: Raziq, bahawalpur

Sumandar Mein Utarta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain
Teri Aankhon Ko Parhta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Tumhara Naam Likhne Ki Ijazat Chhin Gayi Jab Se
Koi Bhi Lafz Likhta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Teri Yaadon Ki Khushbu Khirkiyon Mein Raqs Karti hay
Tere Gham Mein Sulagta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Main Hans K Jheel Leta Hoon Judai Ki Sabhi Rasmein
Gale Jab Uss K Lagta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Na Jane Ho Gaya Hoon Iss Qadar Hassas Main Kab Se
Kisi Se Baat Karta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Wo Sub Guzre Hue Lamhat Mujh Ko YaadAate Hain
Tumhare Khat Jo Parhta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Main Saara Din Bahot Masroof Rehta Hoon MagarJunhi
Qadam Choukhat Pe Rakhta Hoon Tou aankhen Bheeg Jaati Hain

Bare Logon K Oonche Badnuma Aur Sard Mahlon Ko
Ghareeb Aankhon Se Takta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Tere Kooche Se Ab Mera Ta’alluq Wajbi Sa Hay
Magar Jab Bhi Guzarta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Hazaron Mausamon Ki Hukmarani Hay Mere Dil Per
Wasi Main Jab Bhi Hansta Hoon Tou Aankhen Bheeg Jaati Hain

Rate it:
Views: 384
10 Nov, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL