Suna Hai Log Osay
Poet: Ahmad faraz By: Ana Khan, karachiSuna Hai Log Osay Aank Bhar K Dektay Hain
So Os K Shehr Mai Kuch Din Tehar K Dektay Hain
Suna Hai Rabt Hai Os Ko Kharab Haalo Se
So Apnay Aap Ko Barbaad Kar K Dektay Hain
Suna Hai Dard Ki Gahuk Hai Chashm-E-Naaz Os Ki
So Hum Bi Os Ki Gali Se Guzar K Dektay Hain
Suna Hai Os Ko Bi Hai Shair-O-Shayeri Se Shughaf
So Hum Bi Moajzay Apnay Hunar K Dektay Hain
Suna Hai Bolay To Baato Se Phool Jharrtay Hain
Ye Baat Hai To Chalo Baat Kar K Dektay Hain
Suna Hai Raat Osay Chaand Takta Rehta Hai
Sitaray Baam-E-Falak Se Otar K Dektay Hain
Suna Hai Din Ko Osay Titliyaan Satati Hain
Suna Hai Raat Ko Jugnoo Tehar K Dektay Hain
Suna Hai Hashr Hain Os Ki Ghazzaal Si Aankain
Suna Hai Os Ko Hiran Dasht Bhar K Dektay Hain
Suna Hai Os Ki Siyaah-Chashmagi Qayamat Hai
So Os Ko Surma-Firosh Aah Bhar K Dektay Hain
Suna Hai Aayeena-Tamsaal Hai Jabeen Os Ki
Jo Saada-Dil Hain Osay Ban-Sanwar K Dektay Hain
Suna Hai Os K Badan Ki Kharaash Aisi Hai
K Phool Apni Qubayain Katar K Dektay Hain
Bus Ek Nigaah Se Lutt-Ta Hai Qaafila Dil Ka
So Rahrawan-E-Tamanna Bi Darr K Dektay Hain
Suna Hai Os K Shabistaan Se Muttasil Hai Bahisht
Makeen Odhar K Bi Jalway Idhar K Dektay Hain
Rukay To Gardishain Os Ka Tawaf Karti Hain
Chalay To Os Ko Zamanay Tehar K Dektay Hain
Kisay Naseeb K Be-Pairhan Osay Dekay
Kabi Kabi Dar-O-Deewar Ghar K Dektay Hain
Ab Os K Shehr Mai Tehrain K Kooch Kar Jayain
Faraz Aawo Sitaray Safar K Dektay Hain
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






