Sunu Janaa'n Mubarak Ho

Poet: Saleem Sarmad By: Saleem Sarmad, DG KHAN

SunoJanaa'n Mubarak HoMeri Janaa'n Mubarak Ho

Bichrna Par Raha Hae Ab
Mujhe Tum Se Tumhen Mujh Se

Tumhari Ye Jo Khawhish Thi
Wo Poori Ho Rahi Hae Na !

Mujhe Tum Kho Rahi Ho Ab
Tumhen Main Kho Raha Hon Ab

Meri Kuch Khawhishen Jaana
Meri Kuch Hasraten Jaana

Tumhare Sath Jeene Ki
Tumhare Sath Marne Ki

Main Poori Kar Nahen Paya
Akele Hi Inhen Jaana

Keh Apne Dil Ke Khandar Men
Dafan Ab Kr Raha Hon Main

Tumhen Zindgi Mubark Ho
Akele Mar Raha Hon Main

Kabhi Mumkin Ho Na Mumkin
Tumhen Main Yaad Aa Jaon

To Aadhi Raat Ko Janaa'n
Koi Jalti Huwi Shamaa

Bujha DenaGira Dena
Mujhe Phir Se Bhula Dena

Kisi Daali Se Ik Guncha
Jhatak LenaMassal Dena

Baha DenaGira Dena
Mujhe Phir SeBhula Dena

Magr Janaa'nMeri Janaa'n
Main Ab Ahsaas Ki Manind

Tumhari Har Taraf Phaili
Hawaon Men Fizaon Men

Rahon Ga MainBason Ga Main

Kabhi Main Sard Jhonkon Men
Kabhi Barish Ki Bondoun Men

Kabhi Sorij Ki Hiddat Men
Kabhi Sehra Ke Zarron Men

Kabhi Angan Ki Matti Men
Kabhi Shabnam Ke Qatroon Men

Kabhi Pholoon Ki Khushbou Men
Kabi Saanson K Rishtoon Men

Rahon Ga MainBason Ga Main

Mujhe Mehsos Karna Ho
To In Sb Se Jure Rehna

Suno Janaa'n Mubarak Ho
Meri Janaan'n Mubarak Ho

Bicharna Par Raha Hae Ab
Mujhe Tum Se Tumhen Mujh SeA
 

Rate it:
Views: 865
16 Aug, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL