Poetries by سید مجتبی داودی
سود و زیاں حسنِ فطرت کا انہیں منظر کہیں یا گلستاں
پھول تو ہوتے ہیں اپنے موسموں کا ترجماں
رات بھر کی شبنم افشانی تو ہے اک واقعہ
صبح کی کرنیں بنا دیتی ہیں اس کو داستاں
پر سکوں انداز میں ہر شے ہے گویا بے رموز
واد لیکن بے زبانی کی نہیں دیتی زباں
حشر کیا ہے رونمائی لمحہِ موجود کی
جو یہاں ہے حشر میں بھی ہے یہی سود و زیاں
یہ گراں کوہِ مسلسل اور یہ اونچے درخت
ہر بلندی کے لئے پستی ہے اک جائے اماں
وقت مشکل کوئی بھی تیرے قریب آیا نہیں
ایک ہی صف میں کھڑے تھے سب مراتب ناتماں Syed Mujtaba Daoodi
پھول تو ہوتے ہیں اپنے موسموں کا ترجماں
رات بھر کی شبنم افشانی تو ہے اک واقعہ
صبح کی کرنیں بنا دیتی ہیں اس کو داستاں
پر سکوں انداز میں ہر شے ہے گویا بے رموز
واد لیکن بے زبانی کی نہیں دیتی زباں
حشر کیا ہے رونمائی لمحہِ موجود کی
جو یہاں ہے حشر میں بھی ہے یہی سود و زیاں
یہ گراں کوہِ مسلسل اور یہ اونچے درخت
ہر بلندی کے لئے پستی ہے اک جائے اماں
وقت مشکل کوئی بھی تیرے قریب آیا نہیں
ایک ہی صف میں کھڑے تھے سب مراتب ناتماں Syed Mujtaba Daoodi
ڈر کے اہلِ ستم سے لکھتے ہیں ڈر کے اہلِ ستم سے لکھتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں Syed Mujtaba Daoodi
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں Syed Mujtaba Daoodi
بغاوت کے گیت پاؤں کے نیچے آگ بچھی ہو جھونکا ہوا کا وار کرے
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے Syed Mujtaba Daoodi
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے Syed Mujtaba Daoodi
تشنہ در و بام تمام عمر سفر ہی میں صبح و شام رہے
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
Syed Mujtaba Daoodi
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
Syed Mujtaba Daoodi
برگزیدہ شجر حریفِ دار بھی ظالم پہ وار دینا تھا
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا Syed Mujtaba Daoodi
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا Syed Mujtaba Daoodi
دسترس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے دسترس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے
وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے
صاحِبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے
ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے
ہم نے رو لیں ہیں گہر اشک ندامت کے بہت
ہوں نہ منظور یہ سوغات تو پھر کیا کیجیے
ہم نے برتا ہے رویوں کو عبادت کی طرح
جرم بن جائے مناجات تو پھر کیا کیجئے
تیرگئ غم ہستی کا تسلسل ٹوٹے
چلیے یہ کٹ بھی گئی رات تو پھر کیا کیجئے
زندہ رہنے کے لیے شرط تحمل ٹھہری
اس پہ قائل نہ ہوئی ذات تو پھر کیا کیجئے
زیست کے لمحوں رکھا ہے سجا کر شاعر نے
مانگ لے کوئی حسابات تو پھر کیا کیجئے
سید مجتبیٰ داودی
وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے
صاحِبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے
ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے
ہم نے رو لیں ہیں گہر اشک ندامت کے بہت
ہوں نہ منظور یہ سوغات تو پھر کیا کیجیے
ہم نے برتا ہے رویوں کو عبادت کی طرح
جرم بن جائے مناجات تو پھر کیا کیجئے
تیرگئ غم ہستی کا تسلسل ٹوٹے
چلیے یہ کٹ بھی گئی رات تو پھر کیا کیجئے
زندہ رہنے کے لیے شرط تحمل ٹھہری
اس پہ قائل نہ ہوئی ذات تو پھر کیا کیجئے
زیست کے لمحوں رکھا ہے سجا کر شاعر نے
مانگ لے کوئی حسابات تو پھر کیا کیجئے
سید مجتبیٰ داودی
یکجا تھے سارے فہم و فراست میں پست عوام یکجا تھے سارے فہم و فراست میں پست عوام
قبلہ بنے ہوئے تھے قبیلہ پرست عوام
لگتا تھا چھو گیا تھا اُنھیں جنونیت کا جن
اِس طرح اپنے آپ میں رہتے تھے مست عوام
کیا خوب ہر طرف ہے ترقّی کی دھوم دھام
کشکول تھامے ملک ہے کاسہ بدست عوام
سر پر ہے سائباں کی طرح دھوپ کا شجر
آرام کر رہے ہیں ابھی فاقہ مست عوام
یوں ہی رہیں گے حرص و ہوَس کے اگر اسیر
کھائیں گے اپنے آپ سے یوں ہی شکست عوام
سید مجتبیٰ داودی
قبلہ بنے ہوئے تھے قبیلہ پرست عوام
لگتا تھا چھو گیا تھا اُنھیں جنونیت کا جن
اِس طرح اپنے آپ میں رہتے تھے مست عوام
کیا خوب ہر طرف ہے ترقّی کی دھوم دھام
کشکول تھامے ملک ہے کاسہ بدست عوام
سر پر ہے سائباں کی طرح دھوپ کا شجر
آرام کر رہے ہیں ابھی فاقہ مست عوام
یوں ہی رہیں گے حرص و ہوَس کے اگر اسیر
کھائیں گے اپنے آپ سے یوں ہی شکست عوام
سید مجتبیٰ داودی
آگہی گمرہی ضروری ہے آگہی گمرہی ضروری ہے
یہ کبھی وہ کبھی ضروری ہے
چاندنی کا سراغ پانے کو
دھوپ سے دوستی ضروری ہے
خودسروں کو بھی راہ پر لائے
ایسی کچھ بندگی ضروری ہے
ظلمتِ شب بھی مانگتی ہے دعا
میرے گھر روشنی ضروری ہے
رہبری کو ہو اعتبار نصیب
اس لئے رہبری ضروری ہے
منزلیں اس طرح نہیں ملتیں
کچھ تو دیوانگی ضروری ہے
دل سے مجبور ہوں میں اے شاعر
اس لئے شاعری ضروری ہے
سید مجتبیٰ داودی
یہ کبھی وہ کبھی ضروری ہے
چاندنی کا سراغ پانے کو
دھوپ سے دوستی ضروری ہے
خودسروں کو بھی راہ پر لائے
ایسی کچھ بندگی ضروری ہے
ظلمتِ شب بھی مانگتی ہے دعا
میرے گھر روشنی ضروری ہے
رہبری کو ہو اعتبار نصیب
اس لئے رہبری ضروری ہے
منزلیں اس طرح نہیں ملتیں
کچھ تو دیوانگی ضروری ہے
دل سے مجبور ہوں میں اے شاعر
اس لئے شاعری ضروری ہے
سید مجتبیٰ داودی
کون کیا کہتا ہے اُس پر دھیان رکھ کون کیا کہتا ہے اُس پر دھیان رکھ
رات کی سرگوشیوں پر کان رکھ
چاہے دل میں درد کا طوفان ہو
اپنے چہرے پر مگر مسکان رکھ
جو کسی صورت نہ پورا ہوسکے
اپنے دل میں ایسا مت ارمان رکھ
لکھ دیا جو کاتبِ تقدیر نے
تجھ کو حاصل ہوگا اطمینان رکھ
سر اٹھاکر تجھ کو جینا ہے اگر
مت کسی کا اپنے سر احسان رکھ
لوگ تجھ کو دور سے پہچان لیں
شاعرؔ اپنی منفرد پہچان رکھ
سید مجتبیٰ داودی
رات کی سرگوشیوں پر کان رکھ
چاہے دل میں درد کا طوفان ہو
اپنے چہرے پر مگر مسکان رکھ
جو کسی صورت نہ پورا ہوسکے
اپنے دل میں ایسا مت ارمان رکھ
لکھ دیا جو کاتبِ تقدیر نے
تجھ کو حاصل ہوگا اطمینان رکھ
سر اٹھاکر تجھ کو جینا ہے اگر
مت کسی کا اپنے سر احسان رکھ
لوگ تجھ کو دور سے پہچان لیں
شاعرؔ اپنی منفرد پہچان رکھ
سید مجتبیٰ داودی
اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ان تھکے تھکے موسموں کو دیوانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
احباب کا دکھ اغیار کا غم اپنوں کا گلہ دشمن کے ستم
بے کیف و سرور اس دنیا کو آشیانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہیں دل و جگر ہی دشمن جاں پر دل و جگر تو اپنے ہیں
جب اپنے ہیں تو اپنوں کو بیگانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
کیا جذب و فنا کی منزل ہے کیا نشونما کا حاصل ہے
اک باب نصیحت لکھنا ہے ہر دانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
دو گھونٹ یہاں پینے کے لیئے دو سانس یہاں جینے کے لئیے
لمحات وصولا کرتے ہیں نذرانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہر خواہش کی سو خواہش ہیں سو خواہش کی سو علت بھی
بھرتا ہی نہیں کبھی چاہت کا پیمانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
جذبات سے کچھ الفت کی تھی لمحے بھر کی غفلت کی تھی
تا عمر دیا ہے اے شاعر ہرجانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
سید مجتبیٰ داودی
اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ان تھکے تھکے موسموں کو دیوانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
احباب کا دکھ اغیار کا غم اپنوں کا گلہ دشمن کے ستم
بے کیف و سرور اس دنیا کو آشیانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہیں دل و جگر ہی دشمن جاں پر دل و جگر تو اپنے ہیں
جب اپنے ہیں تو اپنوں کو بیگانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
کیا جذب و فنا کی منزل ہے کیا نشونما کا حاصل ہے
اک باب نصیحت لکھنا ہے ہر دانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
دو گھونٹ یہاں پینے کے لیئے دو سانس یہاں جینے کے لئیے
لمحات وصولا کرتے ہیں نذرانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہر خواہش کی سو خواہش ہیں سو خواہش کی سو علت بھی
بھرتا ہی نہیں کبھی چاہت کا پیمانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
جذبات سے کچھ الفت کی تھی لمحے بھر کی غفلت کی تھی
تا عمر دیا ہے اے شاعر ہرجانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
سید مجتبیٰ داودی
اس دیس کو تم گہوارہ امن بنا دو اس دیس کو تم گہوارہ امن بنا دو
قائد کے اصولوں کو تم آئین بنا دو
ایوانوں کے تم سب در و دیوار ہلا دو
انصاف بس انصاف کا تم نعرہ لگا دو
انصاف کے قاتل کو کٹہرے میں سزا دو
منصف ہوں اگر ایسے تو منصب سے ہٹا دو
جس نے تمہیں لوٹا وہی اب تخت نشیں ہے
اٹھو نو جوانو تم یہ تخت ہلا دو
یہ سانپ جو بیٹھے ہیں خزانوں پہ تمہارے
وہ بین بجاؤ کے انہیں دھرتی سے بھگا دو
چاہیں ہیں جو ہم امن و اماں سے یہاں رہنا
مرضی ہے عدو کی انہیں آپس میں لڑا دو
بچوں کو سیاست کی ابجد بھی سکھا دو
حق گوئی کا بھی یہ سبق ان کو پڑھا دو
زرخیز زمیں ہے اسے فصلوں سے سجا دو
گوداموں میں گندم کے تم انبار لگا دو
پہنو کوئی پوشاک تو ہو دیس کی اپنے
غیروں سے خریدی ہوئی ہر چیز ہٹا دو
ملا کے لیے قتل تو واجب ہے سبھی کا
اس ملک سے جنگل کا یہ دستور ہٹا دو
ملا کو ذرا باندھ کے رکھ کوئی دن کو
قرآن کے بس درس سے انسان بنا دو
رکھ تو غرض اپنی عبادات سے ہی بس
کیا فرقہ کسی کا ہے یہ اب دل سے بھلا دو
پھر کوئی نہ دیکھے ہم کو ترچھی نظر سے
گروی ہے وطن تم اسے دشمن سے چھڑا دو
میدان سیاست کے اے مانے ہوے مہرو
تم ہار کے اک دن یہ وطن اپنا جتا دو
سید مجتبیٰ داودی
قائد کے اصولوں کو تم آئین بنا دو
ایوانوں کے تم سب در و دیوار ہلا دو
انصاف بس انصاف کا تم نعرہ لگا دو
انصاف کے قاتل کو کٹہرے میں سزا دو
منصف ہوں اگر ایسے تو منصب سے ہٹا دو
جس نے تمہیں لوٹا وہی اب تخت نشیں ہے
اٹھو نو جوانو تم یہ تخت ہلا دو
یہ سانپ جو بیٹھے ہیں خزانوں پہ تمہارے
وہ بین بجاؤ کے انہیں دھرتی سے بھگا دو
چاہیں ہیں جو ہم امن و اماں سے یہاں رہنا
مرضی ہے عدو کی انہیں آپس میں لڑا دو
بچوں کو سیاست کی ابجد بھی سکھا دو
حق گوئی کا بھی یہ سبق ان کو پڑھا دو
زرخیز زمیں ہے اسے فصلوں سے سجا دو
گوداموں میں گندم کے تم انبار لگا دو
پہنو کوئی پوشاک تو ہو دیس کی اپنے
غیروں سے خریدی ہوئی ہر چیز ہٹا دو
ملا کے لیے قتل تو واجب ہے سبھی کا
اس ملک سے جنگل کا یہ دستور ہٹا دو
ملا کو ذرا باندھ کے رکھ کوئی دن کو
قرآن کے بس درس سے انسان بنا دو
رکھ تو غرض اپنی عبادات سے ہی بس
کیا فرقہ کسی کا ہے یہ اب دل سے بھلا دو
پھر کوئی نہ دیکھے ہم کو ترچھی نظر سے
گروی ہے وطن تم اسے دشمن سے چھڑا دو
میدان سیاست کے اے مانے ہوے مہرو
تم ہار کے اک دن یہ وطن اپنا جتا دو
سید مجتبیٰ داودی
اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ان تھکے تھکے موسموں کو دیوانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
احباب کا دکھ اغیار کا غم اپنوں کا گلہ دشمن کے ستم
بے کیف و سرور اس دنیا کو آشیانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہیں دل و جگر ہی دشمن جاں پر دل و جگر تو اپنے ہیں
جب اپنے ہیں تو اپنوں کو بیگانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
کیا جذب و فنا کی منزل ہے کیا نشونما کا حاصل ہے
اک باب نصیحت لکھنا ہے ہر دانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
دو گھونٹ یہاں پینے کے لیئے دو سانس یہاں جینے کے لئیے
لمحات وصولا کرتے ہیں نذرانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہر خواہش کی سو خواہش ہیں سو خواہش کی سو علت بھی
بھرتا ہی نہیں کبھی چاہت کا پیمانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
جذبات سے کچھ الفت کی تھی لمحے بھر کی غفلت کی تھی
تا عمر دیا ہے اے شاعر ہرجانہ لکھوں تو کیسے لکھوں سید مجتبیٰ داودی
ان تھکے تھکے موسموں کو دیوانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
احباب کا دکھ اغیار کا غم اپنوں کا گلہ دشمن کے ستم
بے کیف و سرور اس دنیا کو آشیانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہیں دل و جگر ہی دشمن جاں پر دل و جگر تو اپنے ہیں
جب اپنے ہیں تو اپنوں کو بیگانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
کیا جذب و فنا کی منزل ہے کیا نشونما کا حاصل ہے
اک باب نصیحت لکھنا ہے ہر دانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
دو گھونٹ یہاں پینے کے لیئے دو سانس یہاں جینے کے لئیے
لمحات وصولا کرتے ہیں نذرانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہر خواہش کی سو خواہش ہیں سو خواہش کی سو علت بھی
بھرتا ہی نہیں کبھی چاہت کا پیمانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
جذبات سے کچھ الفت کی تھی لمحے بھر کی غفلت کی تھی
تا عمر دیا ہے اے شاعر ہرجانہ لکھوں تو کیسے لکھوں سید مجتبیٰ داودی
حدِّ نظر تک اپنے سوا کچھ وہاں نہ تھا حدِّ نظر تک اپنے سوا کچھ وہاں نہ تھا
میں وہ زمین جس کا کوئی آسماں نہ تھا
سب میں کرائے داروں کے پائے گیے نشاں
جسموں کے شہر میں کوئی خالی مکاں نہ تھا
بچپن کے ساتھ ہو گئے بوڑھے تمام ذہن
ہم مفلسوں کے گھر میں کوئی نوجواں نہ تھا
چہرے سبھی کے لگتے تھے مہمانوں سے مگر
خود کے سوا کسی کا کوئی میزباں نہ تھا
ہر زاویے سے بول چکے تھے مرے بزرگ
باقی مرے لیے کوئی طرزِ بیاں نہ تھا
ان خواہشوں کی چھاؤں میں گزری تمام عمر
جن خواہشوں کے سر پہ کوئی سائباں نہ تھا
سید مجتبی داودی
میں وہ زمین جس کا کوئی آسماں نہ تھا
سب میں کرائے داروں کے پائے گیے نشاں
جسموں کے شہر میں کوئی خالی مکاں نہ تھا
بچپن کے ساتھ ہو گئے بوڑھے تمام ذہن
ہم مفلسوں کے گھر میں کوئی نوجواں نہ تھا
چہرے سبھی کے لگتے تھے مہمانوں سے مگر
خود کے سوا کسی کا کوئی میزباں نہ تھا
ہر زاویے سے بول چکے تھے مرے بزرگ
باقی مرے لیے کوئی طرزِ بیاں نہ تھا
ان خواہشوں کی چھاؤں میں گزری تمام عمر
جن خواہشوں کے سر پہ کوئی سائباں نہ تھا
سید مجتبی داودی
چلو مانگ لیں نور شمس و قمر سے چلو مانگ لیں نور شمس و قمر سے
کریں دہر آباد فکر و نظر سے
طلب میں ہو اخلاص کی رہنمائی
دعائیں نہ مایوس ہوں گی اثر سے
کرو اپنی منزل کا اول تعین
پتہ پوچھ لو جاکے تم پھر خضر سے
اجالے میں جگنو دکھائی نہ دے گا
حقیقت کو جانو حقیقی نظر سے
تو شاہین۔۔۔۔ پرواز کی فکر کرلے
پلٹنا ہی ہے زندگی کے سفر سے
سید مجتبی داودی
کریں دہر آباد فکر و نظر سے
طلب میں ہو اخلاص کی رہنمائی
دعائیں نہ مایوس ہوں گی اثر سے
کرو اپنی منزل کا اول تعین
پتہ پوچھ لو جاکے تم پھر خضر سے
اجالے میں جگنو دکھائی نہ دے گا
حقیقت کو جانو حقیقی نظر سے
تو شاہین۔۔۔۔ پرواز کی فکر کرلے
پلٹنا ہی ہے زندگی کے سفر سے
سید مجتبی داودی
جاتا ہے بھرم زیست کا اے دیدہ تر جائے جاتا ہے بھرم زیست کا اے دیدہ تر جائے
موتی کی طرح برگ پہ شبنم تو نکھر جائے
لمحوں کے تسلسل سے ہے حرکت کا تسلسل
لمحے جو ٹھہر جائیں تو حرکت بھی ٹھہر جائے
اس طفل کی مانند ہوئی جاتی ہے ہستی
جو طفل کہ ہر خواب سے ہر بات سے ڈر جائے
بڑھتی ہے تھکن اور بھی احساس سفر سے
آرام سفر آئے جب احساس سفر جائے
یوں دیر تلک ساحل دریا پہ نہ بیٹھے
شاعر سے کہو شام ہوئی جاتی ہے گھر جائے
سید مجتبی داودی
موتی کی طرح برگ پہ شبنم تو نکھر جائے
لمحوں کے تسلسل سے ہے حرکت کا تسلسل
لمحے جو ٹھہر جائیں تو حرکت بھی ٹھہر جائے
اس طفل کی مانند ہوئی جاتی ہے ہستی
جو طفل کہ ہر خواب سے ہر بات سے ڈر جائے
بڑھتی ہے تھکن اور بھی احساس سفر سے
آرام سفر آئے جب احساس سفر جائے
یوں دیر تلک ساحل دریا پہ نہ بیٹھے
شاعر سے کہو شام ہوئی جاتی ہے گھر جائے
سید مجتبی داودی
وقت ہرچند ہے کڑا دختر وقت ہرچند ہے کڑادختر
ہار دینا نہ حوصلہ دختر
فصل جاں کو ہوا کیا ہے
زخم دینے لگے صدا دختر
کھڑکی بھی بند رکھتی ہو
گھر میں آنے بھی دو ہوا دختر
ہے تپش تیز تر شب غم کی
اوڑھ لو دھوپ کی ردادختر
وقت پر سب ہی روٹھ جاتے ہیں
کام تو آتا ہے حوصلہ دختر
ذندگی پر محیط ہوتا ہے
ایک لمحے کا فیصلہ دختر
دیدہ و دل بچھائے رکھتے ہیں
کون کب آئے گا کیا پتہ دختر سید مجتبی داودی
ہار دینا نہ حوصلہ دختر
فصل جاں کو ہوا کیا ہے
زخم دینے لگے صدا دختر
کھڑکی بھی بند رکھتی ہو
گھر میں آنے بھی دو ہوا دختر
ہے تپش تیز تر شب غم کی
اوڑھ لو دھوپ کی ردادختر
وقت پر سب ہی روٹھ جاتے ہیں
کام تو آتا ہے حوصلہ دختر
ذندگی پر محیط ہوتا ہے
ایک لمحے کا فیصلہ دختر
دیدہ و دل بچھائے رکھتے ہیں
کون کب آئے گا کیا پتہ دختر سید مجتبی داودی
خودی تضحیک حسرت کی ثمر ہے خودی تضحیک حسرت کی ثمر ہے
تجھے ائے بے نیازی کچھ خبر ہے
جو ہے وہ زد میں ہے وہم و گماں کی
نہیں ہے جو وہی تو معتبر ہے
بہت حساس ہوتا جا رہا ہوں
میرے اندر بھی کوئی شیشہ گر ہے
خرد کہتی ہے کانٹوں سے نہ الجھو
جنوں کہتا ہے یہ کار ہنر ہے
انا کی کارفرمائی ابد تک
انا کی عمر گر چہ مختصر ہے
سید مجتبی داودی
تجھے ائے بے نیازی کچھ خبر ہے
جو ہے وہ زد میں ہے وہم و گماں کی
نہیں ہے جو وہی تو معتبر ہے
بہت حساس ہوتا جا رہا ہوں
میرے اندر بھی کوئی شیشہ گر ہے
خرد کہتی ہے کانٹوں سے نہ الجھو
جنوں کہتا ہے یہ کار ہنر ہے
انا کی کارفرمائی ابد تک
انا کی عمر گر چہ مختصر ہے
سید مجتبی داودی
خودی کی انتہائی مات کہیے خودی کی انتہائی مات کہیے
محبت کو شکست ذات کہیے
اثر انگیزی کےحالات کہیے
کچھ اپنے بھی تو احساسات کہیے
بہت تمہید سن لی درد دل کی
جو کہنا چاہتے ہیں بات کہیے
در و دیوار پر مٹی جمی ہے
کسی سے گھر کے کیا حالات کہیے
پشیمانی کی باعث نا ہو جائے
سمجھ کر سوچ کر ہر بات کہیے
ہے دانا کے لیے کافی اشارہ
جو ناداں ہوں تو کھل کر بات کہیے
کوئی پوچھے تو چپ رہنا ہی بہتر
کسی سے کیا کسی کی بات کہیے
سید مجتبی داودی
محبت کو شکست ذات کہیے
اثر انگیزی کےحالات کہیے
کچھ اپنے بھی تو احساسات کہیے
بہت تمہید سن لی درد دل کی
جو کہنا چاہتے ہیں بات کہیے
در و دیوار پر مٹی جمی ہے
کسی سے گھر کے کیا حالات کہیے
پشیمانی کی باعث نا ہو جائے
سمجھ کر سوچ کر ہر بات کہیے
ہے دانا کے لیے کافی اشارہ
جو ناداں ہوں تو کھل کر بات کہیے
کوئی پوچھے تو چپ رہنا ہی بہتر
کسی سے کیا کسی کی بات کہیے
سید مجتبی داودی
دست رس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے دست رس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے
وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے
صاحِبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے
ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے
تیرگئ غم ہستی کا تسلسل ٹوٹے
چلیے یہ کٹ بھی گئی رات تو پھر کیا کیجئے
زندہ رہنے کے لیے شرط تحمل ٹھہری
اس پہ قائل نہ ہوئی ذات تو پھر کیا کیجئے
زیست کے لمحوں رکھا ہے سجا کر شاعر
مانگ لے کوئی حسابات تو پھر کیا کیجئے
سید مجتبی داودی
وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے
صاحِبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے
ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے
تیرگئ غم ہستی کا تسلسل ٹوٹے
چلیے یہ کٹ بھی گئی رات تو پھر کیا کیجئے
زندہ رہنے کے لیے شرط تحمل ٹھہری
اس پہ قائل نہ ہوئی ذات تو پھر کیا کیجئے
زیست کے لمحوں رکھا ہے سجا کر شاعر
مانگ لے کوئی حسابات تو پھر کیا کیجئے
سید مجتبی داودی