Taiz Barish Ki Boondo,n Sy Khud Ko Bchati Wo Larki,

Poet: Minhas By: Farasat ali minhas, Lahore

Taiz Barish Ki Boondon
Sy Bachti Bchati Wo
Larki
Ankhon Ko Bha Gai
Anchal Sy Pani Tpkati
Wo Larki
Uff Kya Mehak Thi
Beegy Huye Badan Ki
GulaboN Ki Mehak
SansoN Mein Utr I Ho
Jaisy
Halka Halka Sa Lrzta
Badan Us Ka
Kli Taiz HawaoN Sy
Larzi Ho Jaisy.
Gulabi GaloN Py Thehry
Barish K Qatry.
Pho0l Py Shabnm Parhi
Ho Jaisy
Wo LogoN Ki NazroN
Sy Sharmai Aisy
Chho0ny Sy Simti Ho
Choi Moi Jaisy
Syah PalkoN Thehry
Wo Pani K Qatry
Syah Raat Mein Chmkty
Sitary Hun Jaisy
Wo Larzty HontoN Sy
Kehna Us Ka Sunye Zra.
Uff KanoN Mein Kisi Ny
Ras Ghol Diye Hun
Jaisy
Kya BtaoN Kaisi Aawaz
Thi Us Ki
Youn Smjhiye K Saaz K
TaroN Ko Kisi Ny
Chhaira Ho Jaisy
Main Aaj B Us
Husn_E_Mujasm Ko
Sochta Hun
To Aisa Lagta Hai Wo
NigahoN K Samne Ho
Jaisy
Usy Bho0l Jane Ki Sbi
Tadbeeryn Nakam Ho
Gai Hain "Minhas"
Aisa Lagta Hai Us Ny
Mujh Par Koi Jadu Kr
Diya Ho Jaisy

Rate it:
Views: 1007
26 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL