Tare Diye Howe Dukh

Poet: majassaf imran By: majassaf imran, gujrat

Hum Rooz Tare Diye Howe Sub Zahmom Ka Hisaab Likhtey Hain
.Tare Ik Ik Lafaz Py Hum Jana Pora Pora Nesab Likhtey Hain

Kabi Shear ,Kabi Gazal Likhtey Hain Pher B Kuch Haraf Tare Hissay Men Buch Jaty Hain
.Dil Men Khayal Ata Ha Churo Ye Shaeri Keun Na Tuj Py ,,Nafees,, Kitab Likhtey Hain

Kabi Likhney Hi Lagata Hn Koi Shahas Pakar Ker Gery Baan Mera Mujy Janjour Deta Ha
.Kuch To Khayal Kero Kia Reshta Ha Ap Ka Muj Sy Jo Muj Py Baten Behasaab Likhtey Hian

Pher Keh Deta Hn Men Na Tuj Py Likhtey Hain Gazal Na Tare Halaat Py Likhtey Hain
.Hum To Bus Tanhai K Alum Men Hud Py Gure Howe Waqat Ka Azaab Likhtey Hain

Han Magar Ye Baat B Such Ha K Tuj Sy Mare Zindagi Ka Kuch Hissa Jura Ha Jana
.Aksar Kar K Sawal Hud Sy ,Usy B Ha Mohabt K Nai Pher Hud He Us Ka Jawab Likhty Hain

Par Ker Mari Shaeri Kabi Khabar Nahi K Tari Moun Sy Lafaz Niklen Ya Ankh Sy Ansoo
.Jis Nay B Pari Mari Gazlen Wo Roo Para Hum Is Qadar ,Majassaf, Zindgi Benaqab Likhtey Hain

 

Rate it:
Views: 546
11 Aug, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL