Teray Galoon Ke Aks Se Rangeen Hu jati Hay

Poet: Akram Durrani By: Akram Durrani, Trabuco Canyon

Teray Galoon Ke Aks Se Rangeen Hu Jati Hay
Fiza Kis Qadar Wo Mehak Jati Hay
Hawa Jahaan Teri Zulfein Khol Jati Hay
Ghta Kitni Surmai Hu Jati Hay
Teri Ankh Ka Jab Kajal Lagati Hay
Lab-E-Baam Jab Tu Muskarati Hay
Tub Pankhari See Meer Ka Sher Bun Jati Hay
Asmaan Pe Hadd-E-Nigha Roshni Phel Jati Hay
Bijli Chamak Jab Teri Payal Se Chorati Hay
Qos-E-Qaza Teray Galoon Ke Aks Se Rangeen Hu Jati Hay
Teray Abro Ke Jaise Phir Teer Kamaan Hu Jati Hay
Chahal Qadmi Jab Tu Bun Me Karnay Ati Hay
Herni Apani Chaal Bhool Ke Teri Chaal Apna Ti Hay
Chman Ke Fiza Me Jab Tu Gongonati Hay
Awaaz Teri Kuyal Ku Ek Naya Tranum Sekhati Hay
Teri Palkoom Ke Saye Sehra Me Jahan Partay Hain
Tabpti Zameen Wahaan Thanda Farsh Hu Jati Hay
Lachkeeli Kalayoon Ku Teri Utha Angrai Leta Dekh Kar
Shaheen Kee See Taqat-E-Parwaz Bhunwray Ke Pankh Me Ati Hay
Teri Ankhoon Me May Ke Bharay Pemanay Dekh Kar
May Noshi Say Tuba Zahid Kee Toot Jati Haya
 

Rate it:
Views: 577
10 Sep, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL