Tere Baghair........!!
Poet: By: rimsha, WarminghamTerey Baghair Sard Mosmo'n Ke Khusgawar Din Udaas Hen...
Fiza Me Dukh Racha Hoa Hi..
Hawa Koi Udaas Geet Gungana Rahi Hi...
Phool Ke Labo'n Pe Peyas Hi..
Aisa Lagta Hi..
Hawa Ki Aankhen Rotey Rotey Khushk Ho Gai Hon..
Saba Ke Dono Hath Khali Hon..
Keh... Shehr Mein Tera Koi Pata Nahen...
Saans Lena Kitna Mahaal Hi..
Udassian Udassian Ajab Haal Hi..
Tamam Sabz Sayya-Dar Pero'n Ney...
Tery Baghair Wehshato'n Me Apney Perahan Ko Tar Tar Kr Dia...
Ab Kisi Shajr Key Jism Per Qubba Nahen....
Sookey Zard Pattey...
Koo Ba Koo Teri Tilaash Me Bhatak Rahey Hen...
Meray Daricho'n Me Gulabi Dhoop Roz Jhaankti Hi...
Mgr Uss Ki Aankho'n Me..
Wo Jag-Mgahetie'n Nahen...
Jo Teray Waqt Me Zameen Key Sabeeeh Maathey Per...
Soorajo'n Ki Kehkashan'n Sajaaney Aatie'n Thien..
Zamee'n Bhe Meri Trah Hi..
Teray Baghair Es Ki Kohk Se Bhe Ab..
Koi Gulaab Uug Na Paye Ga..
Zamee'n Banjer Ho Gai Hi...
Aur...
Meri Rooh Ki Bahaar Aafree'n Kohk Be...
Meri Soch Key Sadaf Mein...
Fun Key Suchey Moti Kis Trah Janam Lia Kren...
Keh Main Sarapa-E-Tashnagi Hon...
Aur Door Door Tak, Visaal-E-Abr Ki Khabr Nahen...
Meray Aur Teray Darmian...
Paanch Paanio'n Key Des Mein...
Kachey Gharrey Bhe To Meri Dastars Se Door Hen...
Mian Kis Trah SHER Kahoo'n...
Meri Soch Key Badn Ko, Tooo Namoo To Dey...
Keh...
Main Teray Baghair Ek Sehra Hon..........!!
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






