Tere Hawale Lyrics
Poet: Nihal By: Nihal, DaduMainu Chadeyaa, Ishq Mein, Rang Teraa
Ek Ho Gayaa, Ang Meraa, Ang Teraa
Rab Mileyaa, Jadd Mileyaa
Mahi Mainoo, Sang Tera
Na Ho Ke Bhi, Karib Tu, Humeshaa Paas Tha
Ke Sau Janam, Bhi Dekhtaa, Main Tera Rastaa
Na Ho Ke Bhi, Karib Tu, Humeshaa Paas Tha
Ke Sau Janam, Bhi Dekhti, Main Tera Rastaa
Jo Bhi Hai, Sab Mera, Tere Hawale Kar Diya
Jism Ka, Har Ruwan, Tere Hawale Kar Diya
Jo Bhi Hai Sab Mera, Tere Hawale Kar Diya
Jism Ka Har Ruwan, Tere Hawale Kar Diya
Dekha Zamaana, Sara Bharam Hai
Ishq Ibadat, Ishq Karam Hai
Mera Thikaana, Teri Hi Dehliz Hai
Ho… Main Hoon Deewarein, Chhat Hai Piya Tu
Rab Ki Mujhe Nemat Hai Piya Tu
Mere Liye Tu, Barkat Ka Taaveez Hai
Zara Kabhi, Meri Nazar, Se Khud Ko Dekh Bhi
Hai Chand, Mein Bhi Daag Par, Na Tujhme Ek Bhi
Khud Pe, Haq Mera, Tere Hawale Kar Diya
Jism Ka, Har Ruaan, Tere Hawale Kar Diya
Jo Bhi Hai, Sab Mera, Tere Hawale Kar Diya
Jism Ka, Har Ruaan, Tere Hawale Kar Diya
Mainu Chadeyaa, Ishq Mein, Rang Teraa
Ek Ho Gayaa, Ang Meraa, Ang Teraa
Rab Mileyaa, Jadd Mileyaa
Mahi Mainoo, Sang Tera
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






