To Haan Tumse Mohabbat Hai
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiIbadat Mai Duaon Mai
Tumhi Ko Maangte Rehna
Khumaari mai Khayaalon Mai
Tumhi ko Sochte Rehna
Agar Ye Hi Mohabbat Hai
To haan Tumse Mohabbat Hai
Nazar Mai Kaifiyat Jaagi
Labon Pe Shokhiyon Ka Rang
Haya Sar Pe Dupatte Ki
Ke Jaise Titliyon Ka Rang
Tumhi ko sochte rehna
Tasawwar mai Haqeeqat Mai
Agar Ye Hi Mohabbat Hai
To Haan Tumse Mohabbat Hai
Zamana Bhool jaati hun
Sukoon ek pal nhi Milta
Karoon Bas chah Ek Teri
Magar Koi Hal Nhi Milta
Dar-o-Deewar Se Aksar
Tumhaara Zikr karti hoon
Agar Ye Hi Mohabbat Hai
To Haan Tumse Mohabbat Hai
Wafaon Ka Sila Chahoon
Hawaon Se Pata Chahun
Mujhe jo Tum Tak Le Aaye
Koi aisi Dua Chahoon
Har Ek Kisse Kahaani Mai
Tumhaari Baat Sunti Hoon
Agar Ye hi mohabbat Hai
To Haan Tumse Mohabbat Hai.
Koi to Faisla kar Do
Aji Dil Ka Bhala Kar Do
Zehan Mai Tum Samaaye Ho
Mareez-e-Dil Hoon Dawa kar Do
Yakeen Maano Ye Hasrat Hai
Tumhaari Mujhko Chahat Hai
Agar Ye Hi Mohabbat Hai
To Haan Tumse Mohabbat Hai.
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔







