ٹوٹے دل کے پنچھی ہیں ہم

Poet: رعنا کنول By: Rana Kanwal, Rawalpindi
Tootay Dil Ke Panchhi Hain Hum

ٹوٹے دل کے پنچھی ہیں ہم

پر جن کے زمانے نے کاٹ دیئے
گھاؤ بے بسی کے گہرے گھار دیئے
تنگ جن پہ زمین و آسمان ہوگئے
نہ جانے ہم کسی جہاں میں کھوگئے

شکوہ گناہ ہے زیر لب بھی کرنا

ہم کچھ نہ کرکے بھی گناه گار ہوگئے
اشکوں کی دیوانگی چلے جارہی ہے
ستم دل پر کئی ڈہائے جارہی ہے
دریا غموں کا بہتا انمول خزانہ ہے
نامعلوم منزل جسکا ڈھکا نہ ہے

پل بھر میں بکھر گئے وہ سب موتی
جو تھامے بند مٹھی میں تھے
آؤ چن لو مرہم کے موتی کنول کیونکہ
ٹوٹے دل کے پنچھی ہیں ہم
 

Rate it:
Views: 912
24 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL