اِک کام تِرے ذِمّے نمٹا کے چلے جانا

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہ
Ik Kaam Tre Zimmay Nimta Ke Chalay Jana

اِک کام تِرے ذِمّے نمٹا کے چلے جانا
میں بیٹھا ہی رہ جاؤں تُم آ کے چلے جانا

دِل کو ہے یہ خُوش فہمی کہ رسمِ وفا باقی
ہے ضِد پہ اڑا اِس کو سمجھا کے چلے جانا

سِیکھا ہے یہی ہم نے جو دِل کو پڑے بھاری
اُس رُتبے کو عُہدے کو ٹُھکرا کے چلے جانا

بِیمار پڑے ہو گے، بس حفظِ تقدّم کو
دو ٹِیکے ہی لگنے ہیں لگوا کے چلے جانا

بے وقت مُجھے بُوڑھا کر ڈالا، ابھی خُوش ہو
جاں چھوڑ مِری اے دُکھ سجنا کے چلے جا، نا

پلکوں پہ تِری آنسُو، کیا کام تُجھے دیں گے
دامن میں اِنہیں رکھ کر رسواؔ کے چلے جانا

جانا ہے تُمہیں جاؤ، مرضی ہے تُمہاری، پر
کیا بُھول ہوئی اِتنا بتلا کے چلے جانا

بارِش وہ بیاباں کی وہ ٹھہرا ہوا پانی
پانی سے وہ ستُّو کا بس پھاکے چلے جانا

ہیں چور یہاں منہ زور اور ڈاکو بڑے حسرتؔ
پڑ جائیں کہیں دِل پر نا ڈاکے چلے جانا

Rate it:
Views: 914
24 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL