Tum Merii Aa.Nkh Ke Tevar Na

Poet: Wasi Shah By: SAIF ASHIR, Islamabad

Tum Merii Aa.Nkh Ke Tevar Na Bhulaa Paaoge
Ankahii Baat Ko Samajhoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Ham Ne Khushiyo.N Kii Tarah Dukh Bhii Ikatthe Dekhe
Safaah-E-Ziist Ko Palatoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Isii Andaaz Me.N Hote The Mukhaatib Mujh Se
Khat Kisii Aur Ko Likhoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Sard Raato.N Ke Mahakate Hue Sannaato.N Me.N
Jab Kisii Phuul Ko Chuumoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Ab Tere Ashk Mai.N Ho.Ntho.N Se Churaa Letaa Huu.N
Haath Se Khud Inhe.N Po.Nchhoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Shaal Pahanaayegaa Ab Kaun Disambar Me.N Tumhe.N
Baarisho.N Me.N Kabhii Bhiigoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Aaj Tum Mahafil-E-Yaaraa.N Pe Ho Magaruur Bahut
Jab Kabhii Tuut Ke Bikharoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Haadase Aaye.Nge Jiivan Me.N To Tum Hoke Nidhaal
Kisii Diivaar Ko Thaamoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Is Me.N Shaamil Hai Merii Bakht Kii Taariikii Bhii
Tum Siyaah Rang Jo Pahanoge To Yaad Aa_Uu.Ngaa

Rate it:
Views: 376
05 Jul, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL