Tumhe Khone Se Darta Hoon

Poet: Atif sayed By: NS, lahore

Tumhe Khone Se Darta Hoon
Me Khuwab Bohat Dekhta Hoon
Aese Khuwab!
Jin Me Koi Dukh Koi Pereshani Nhi Hoti
Jin Me Wasal K Raste Hijer Ki Waadi Se Ho Kr Nhi Guzerte
Jin Me Muhabat Hamesha Adh Khule Phool Ki Terha Khubsurat
Or Bache Ki Muskaan Ki Terha Khubsurat Hoti He
Aese Khuwab!
Jaha Ek Muskurahat Ki Qeeemat Hazaar Ansoo Nahi Hote
Meri Palkoon Ki Shakhoo Per Kai Aese Khuwab Bethe Rehte Hain
In Ki Gungunahat Mujhe Jeene Pe Uqsati He
Nay Rastoon Ki Or Le Kr Chalti He
Nai Manziloon Ka Pata Batati He
Mujhe Apne Khuwab Se Muhabat He
Un Khuhwaboon Me Rehne Wale Hr Ek Shaks Se Muhabat He
Un Khuwaboo M Deikhne Wali Her Ek Shay Se Muhabat He
K Ye Sab Mera He Sirf Mera
Mere Khuwab Mere Ilawa Koi Nahi Dekh Sakta
Jab Tak K Me Na Dikhana Chahoon
Koi Inhe Meri Ankhoon Se Chura Nhi Sakta
Jab Tak Me Khud Na Kisi Ki Ankhoo Me Saja Doon
Mere Khuwabo
Aaj Me Iqraar Karta Hoon
K Me Tum Me Zinda Hoon
Ye Sach He K Mujhe Ansoon Se Dar Nahi Lagta
Mager Phir Bhi Me Shayad Is Liye Rone Se Darta Hoon
K In Akhoon Me Tum Rehte Ho
Tumhara Hona Mera Hona He
Or Me Tumhe Khone Se Darta Hoon

Rate it:
Views: 5154
22 May, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL