Unkahi Kahani
Poet: By: Daniyal, faisalabadYeh Jo Sham Dhal Rahi Hay
Isay Sehal B Na Jano
Yeh Thehar Gayi Jo Dil Mein
Yehi Shab Halakton Ki
Yehi Dopehar Ki Kari Hay
Pas-E-Gard-E- Ehd-O-Paimaan
Yeh Jo Hijr Ki Ghari Hay
Yeh Fishar-E-Jaan Ka Mausam
Yeh Jo Dil Giraftagi Hay
Yeh Jo Weham Hay Lahoo Mein
Yeh Jo Seham Aankh Mein Hay
Yeh Sinaan Si Waswasoon Ki
Jo Khayal Mein Gharri Hay
Yeh Jo Aik Khalish Wafa Ki
Tera Jaur Seh Gayi Hay
Yeh Jo"Unkahi Kahani"
Mery Dil Mein Reh Gayi Hay
Yeh Thakan Rahay Junoon Ki
Jo Utar Gayi Ragon Mein
Yeh Teri Meri Khushi Hay
Yeh Chiragh Chahton K
Jo Hawa Mein Jal Rahay Hain
Inhein Kab Talak Sambhalein?
Chalo Phir Se Torr Daalein
Vo Tamaam Ehd-O-Paimaan
K Main Tujh Mein Jee Raha Hoon
K Tu Mujh Mein Bus Rahi Hay
Chalo Phir Se Sochtey Hain
K Main Tujh Se Naa Shanasa
K Tu Mujh Se Ajnabi Hay
Vo Jo Rasm-E-Dosti Hay
Vo Rahay To Jaan Salamat
Na Rahay To Phir B Jaana
Tera Gham Sambhalney Ko
Abhi Zindagi Parri Hay
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






