Ussay Ijazat Hai Jee Bhar K Uljha'aye Mujhay!!!
Poet: S. Sadia amber jilani By: Syeda sadia amber jilani, FaisalAbad, Punjab, PakistanUssay Ijazat Hai Jee Bhar K Uljhaye Mujhay
Sharat Yeh Hai K Phir Wohi Suljhaye Mujhay
Jheel Si Aankho'n Mein Doob Janay Day Kabhi Woh
Adhoray Lafzo'n K Ma'ani Samjhaye Mujhay
Hum K Zamanay K Usolo'n Say Sada K Bagi
Ahel-E-Dill K Dasateer Koi Parrhaye Mujhay
Maan Lay Meri Yaa Phir Manwa Lay Apni
Shanshahun Ki Tarah Mukabil Mein Giraye Mujhay
Ab Kon Muhabat Mein Baad-E-Saba Dhonday
Baad-O-Baraa'n Har Lamha Jaha'n Sataye Mujhay
Janta Ho Gar Woh Meray Jazbo'n Ki Hakeekat
Lazim Hai K Fakat Phir Nibhaye Mujhay
Woh Milay Mujh Say Meray Akas Ki Surat
Sunay Meri Aur Apni Suna'aye Mujhay
Guzar Naa Jaen Jaa'n Say Hi Kahen Hum
Shouq Mein Itna Bhi Naa Aazma'aye Mujhay
Harf-E-Dua Ki Tarah Meray Lab Pay Theharnay Wala
Apnay Dast-E-Dua Mein Kabhi Thehara'aye Mujhay
Muhabat Gar Tajarat Hai Tu Karay Sudagari Bhi
Meri Wafao'n K Bhi Zara Daam Bata'aye Mujhay
Humhay Manzor Hai Amber Turak-E-Tualuk Bhi
Jeena Apnay Bina Magar Seekha'aye Mujhay
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






