Ussay Kahna

Poet: By: Al Mitra, Karachi

Ussay Kahna
Kisi Bhi Sham Main Milnay Chalay Aaye
Mujhay Aik Nazm Likhni Hay
Sunahri Dhoop K Jaisa Tere Rang-O-Roop Ujla Sa
Dhulay Barish Se Dekho To Haseen Piyaray Nazaray Hain
Falak K Isteaaray Hain
Yah Teri Aankh Jaisay Hain
So In Sab Par
Mujhay Aik Nazm Likhni Hay
Ussay Kahna Murree Ki Jhoomti Chanchal Hawaoon Si
Teri In Shokh Zulfoon Par
Mujhay Kuch Shair Kahnay Hain
Nasheeli Ankhon Main Teri Sharaboon Ki Si Masti Hay
Teri Narm Palkoon Par Yah Jitney Bhi Sitaray Hain
Mujhay In Sab Ko Choona Hay
Teray In Band Honton Main Chupi Jo Muskurahat Hay
Yahi To Shairi Hay Bas
Mujhay Aik Nazm Likhni Hay
Ussay Kahna
Teri Aankhain Bohat Kuch Bolti Hain
Teri Batain Shehad Sa Gholti Hain
Yah Phoolon Par Giri Shabnam Teray Galoon K Jaisi Hay
Chamakti Chandni Jaisi Teri Roshan Jabeen Par Bhi
Mujhay Aik Nazm Likhni Hay
Ghani Shakhoon K Patton Main Chupa Woh Chand Piyara Sa
Teray Chahray K Jaisa Hay
Teray Is Chand Chahray Par Mujhay Kuch Shair Kahnay Hain
Ussay Kahna Mujhay Aik Nazm Likhni Hay
Kisi Bhi Khubsoorat Sham Main Milnay Chalay Aayea

Rate it:
Views: 1060
11 Feb, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL