Ussi Aik Lamhay Ki Bazgasht

Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hill

Kabhi Koi Duniya Ko Chhor Ker
Yahan Muskuraya Tha Aik Pal
Abhi Tak Rachi Hai Hawaon Main
Usi Aik Lamhay Ki Bazgasht
Who Kabhi Labon Ko Jo Kholta
Tu Fiza Main Shehd Sa Gholta
Who Jo Chalta Shokh Adaon Se
Tu Zameen Ka Seena Bhi Dolta
Who Madhur Si Nazaron Ke Des Main
Sar E Shaam Awaara Saaatain
Kahin Ruk Gain Tu Pata Chala
Mera Dil Faqeerana Bhais Main
Kahan Kis Khamoshi Se Kho Gya
Na Dhyaan Raha,Na Khabr Hui
Who Kisi Ki Motiyon Si Hansi
Mujhay Kehkashaon Pe Le Gai
Wohi Aik Pal Mujhay Yaad Hai
Aur Uske Baad Hayat Bhar
Main Khara Rha Usi Mor Per
Na Koi Nazar Main Sama Saka
Na Khyaal Main Koi Aa Saka
Yeh Gulaab,Kaliyan,Bahar,Aos
Yah Hawa,Dhanak,Yah Fiza Falak
Yeh Shajr,Pahaar,Ya Zamzamay
Yah Chaand,Sooraj ,Roshni
Yeh Khushi,Yeh Baatain,Yeh Qahqahay
Yeh Qalam,Yeh Shaeri,Yeh Khyaal
Usi Aik Saaat Ka Kamal
Yeh Jahan ,Yeh Duniyain,Yeh Zameen
Yeh Safar,Yeh Rah,Yeh Makaan,Makeen
Yeh Samuder O Sehra O Shehr O Dasht
Usi Aik Lamhay Ki Bazgasht

Rate it:
Views: 734
29 Aug, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL