Watan-E-Aziz Ki Hifazat Pay Mamoor Us Apnay K Name

Poet: Tasleem Naz Tasleem By: Tasleem, Lahore

Tum Door Wahan Door
Ja K Bethay Ho
Mera Dil Ni Lagta
Tera Bina
Muje Ko Kuch B Acha Ni Lagta
Chup Chap Si Gum Sum
Rehti Hon
Teri Yadon Min Khoi
Mujko Chori, Kangna, Kajla
Sajna Sanwarna Kuch B
Acha Ni Lagta
Tum Door Wahan Door
Ja K Bethay Ho
Mera Ghar Min Dil Ni Lagta
Chand, Sitaray
Soraj, Kirnain
Rim Jhim Rim Jhim
Raqas Krti Bondin
Sub Nizaaray Sub Piyaray
Wo Hansana Wo Khelna
Sath Sath Chalna
Wo Aik Dam Chup Ho Jana
Or Phir Khilkhila K Hansana
Nadia Ka Pani
Raat Ki Raani
Pepal Ka Per
Koien Ka Mandair
Sono Sub Bara Statay Hin
Tum Door Wahan Door
Ja Bethay Ho
Tum Ko Wapis Bolatay Hin
Sono Tum Lot Ao Na
Nened Rooth Gie Hy Ankhon Say
Sakoon Oth Giea Hy Jiwan Say
Sono Naa
Tum Lot Ao Naa
Kiyon Itna Satatay Ho
Muje Tum Boht Yaad Atay Ho
Min Such Keh Rahi Hon
Muje Tum Boht Yaad Atay Ho
Tum Door Wahan Door
Ja K Bethay Ho

(Watan-E-Aziz Ki Hifazat Pay Mamoor Us Apnay K Name Jo Apni Mohabat Ko Akela Chor K Apnay Mulak Ki Hifazat K Liy Sarhad Pay Ja Betha Hy. Kuch Batin Bol K Ni Kahi Jatin)

 

Rate it:
Views: 1518
09 Feb, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL