Wo Muje Mehandi Lage Hath Dikha
Poet: Mohsin Naqvi By: Ali Hasnain Chuhan, jhangWo Muje Mehandi Lage Hath Dikha K Roi
Me Kisi Or Ki Hn Bs Itna Bta Kr Roi
Umer Bhar Ki Judai Ka Khayal Aya Tha Shayad
Wo Muje Pass Apne Dair Tak Bitha Kr Roi
Ab K Na Sahi Zaroor Hashar Main Milain Ge
Yakja Hone K Dilase Dila Kar Roi
Kabi Kehti Thi K Main Nae G Paon Gi Tumhare Bin
Aur Aaj Phr Wo Ye Baat Dohra K Roi
Mujh Se Zayda Bicharne Ka Ghum Usey Tha
Waqt-E-Rukshat Wo Mujhe Seenay Se Laga Kr Roi
Main Be-Kasoor Hn,Qudrat Ka Faisla Hai Yeh
Lipat K Mujh Se Bus Wo Itna Bta Kr Roi
Mujh Pe Ik Kurab Ka Toofan Ho Geya Hai
Jb Mere Samne Mere Khat Jala Kr Roi
Meri Nafrat Or Adawat Pighal Gai Ik Pal Main
Wo Be-Wafa Hai To Ku Mujhe Rula Kr Roi
Sb Shikwe Mere Ik Pal Main Badal Gae
Jheel Si Ankhon Main Jb Ansu Saja Kr Roi
Kese Us Ki Mohabbat Per Shaq Karen Hum SAGAR
Bari Mehfil Me Wo Muje Gale Laga K Roi
Wo Muje Mehndi Lage Hath Dikha Kr Roi
Wo Muje Mehndi Lage Hath Dikha Kr Roi
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






