Wo Naadaan Hay

Poet: HuKhan By: hukhan, karachi

Zamaanay Kay Chalan Say Naa Ashnaa Hay Wo
Loghun Ki Berukhi Say Naa Ashnaa Hay Wo

Har Shikasat Par Khud Ko Hee Qasoorwaar Samajhta Hay Wo
Bilwajha Hee Khud Ko Pash E Maan Rakhta Hay Wo

Usaay Kia Maloom Apni Muskarahat Mein Meray Jeenay Ka Samaan Rakhta Hay Wo
Janay Jheel See Ankhon Mein Kitnay Armaan Rakhta Hay Wo

Han Magar Mein Janta Hun Meray Liye Bahut Say Peghaam Rakhta Hay Wo
Bahut See Un Kahee Batein Bahut Say Shikway Bhee Rakhta Hay Wo

Meray Dour Hu Janay Kay Dar Say Sab Dil Mein Chupaye Rakhta Hay Wo
Wo Itna Haseen Hay Mosam Badal Denay Ki Taqat Rakhta Hay Wo

Chotay Say Shaer Mein Reh Kar Bhee Dil E Khaas Rakhta Hay Wo
Udaasi Mein Bhee Ansoo Apni Palkon Mein Chupaye Rakhta Hay Wo

Ranjh O Alam Mein Bhee Chahray Par Muskarahat Sajaye Rakhta Hay Wo
Ek Kay Baad Ek Zakham Kha Kar Bhee Husla Chitaano Saa Rakhta Hay Wo

Meray Jhoot Ko Bhee Sach Ki Tra Seenay Mein Sajaye Rakhta Hay Wo
Han Magar Makaaron Kay Iss Deis Mein Asli Chahra Rakhta Hay Wo
Mein Janta Hun Han Magar Nadaan Hay Wo

Rate it:
Views: 735
22 Sep, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL