Woh Dasht Kaisa Tha?....
Poet: By: sumera ataria, GUDDUKaho,
Woh Dasht Kaisa Tha?
Jidhar Sub Kuch Luta Aaye
Jidhar Aankhain Ganwa Aaye
Kaha,
Sailab Jaisa Tha,
Bohot Chaha Keh Bach Niklain Magar Sub Kuch Baaha Aaye
Kaho,
Woh Hijer Kaisa Tha?
Kabhi Choo Ker Usay Dekha
To Tum Nay Kia Bhala Paya
Kaha,
Bus Aag Jaisa Tha,
Usay Choo Ker To Apni Rooh Ye Tann Mann Jala Aaye
Kaho,
Woh Wasl Kaisa Tha
Tumhain Jab Chuu Liya Us Nay
To Kya Ehsas Jaga Tha?
Kaha,
Ik Raastay Jaisa,
Jidhar Say Bus Guzarna Tha, Makan Lekin Bana Aaye
Kaho,
Woh Chand Kaisa Tha?
Falak Say Jo Uttar Aaya!
Tumhari Aankh Main Basnay
Kaha,
Woh Khawab Jaisa Tha,
Nahi Taabeer Us Ki, Usay Ik Shab Sula Aaye
Kaho,
Woh Ishq Kaisa Tha?
Bina Perkhay Kia Jo Tum Nay
Kaha,
Titlii K Rang Jaisa,
Bohat Kachaa Anokha Sa, Jabhi Us Ko Bhula Aaye
Kaho,
Woh Naam Kaisa Tha?
Jisay Sehraaon Aur Chanchal
Hawaon Per Likha Tum Nay
Kaha,
Bus Mosmoon Jaisa,
Na Janay Kis Tarha Kis Pal Kisi Ro Main Mita Aaye
Suno,
Khawahishon Ki Lehron Per Sambhalna Kion Hua Mushkil?
Bataya ,
Paanion Per Khawab Ki Rakhi Bena Jaisay
Bhala Tum Rooh Ki In Kirchion Main Dhoondtay Kia Ho?
Kaha,
Yeh Itni Roshan Hain Keh Sooraj Ha Diya Jaisay
Suno Aankhon Hi Aankhon Ka Bayan Kesay Laga Tum Ko?
Laga,
Phoolon Say Sargoshi Si Kerti Ha Saba Jaisay.
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






