Yaar Ko Hamne Ja Ba Ja Dekha
Poet: Hazrat Shah Niyaz (R.A) By: Anjan Bilal , Srinagar (J&K)Yaar Ko Hamne Ja Ba Ja Dekha
Yaar Ko Hamne Ja Ba Ja Dekha
Kahin Zaahir Kahin Chhupa Dekha
Nukta-e-Imaan Se Waaqif Ho
Chehra-e-Yaar Ja Ba Ja Dekha
Kahin Mumkin Hua Kahin Waajib
Kahin Faani Kahin Baqa Dekha
Deed Apne Ki Thi Use Khwahish
Aap Ko Har Tarah Bana Dekha
Dekhta Aap Hai Sune Hai Aap
Na Koi Uska Ma Siwa Dekha
Soorat-e-Gul Mein Khilkhila Ke Hansa
Shakl-e-Bulbul Mein Chahchaha Dekha
Shama Ho Kar Ke Aur Parwana
Aap Ko Aap Mein Jala Dekha
Kar Ke Daawa Kahin Anal Haq Ka
Bar Sare Daar Wo Khincha Dekha
Tha Woh Bartar Shuma-oMa Se ‘Niyaz‘
Phir Wohi Ab Shuma-o-Ma Dekha
Kahin Begaanavash Nazar Aaya
Kahin Surat Se Aashna Dekha
Kahin Hai Badshah-e-Takht Nashin
Kahin Kaasa Liye Gada Dekha
Kahin Aabid Banaa Kahin Zahid
Kahin Rindon Ka Peshwa Dekha
Kahin Woh Dar Libaas-e-Mashooqaan
Bar Sare Naaz Aur Ada Dekha
Kahin Aashiq ‘Niyaz‘ Ki Soorat
Seena Biryaan-o-Dil Jala Dekha
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






