Zara Thehar Jao!!

Poet: S. Sadia Amber Jilani By: Syeda sadia Amber Jilani, FaisalAbad

Kuch Lafzo'n K Kehnay Tak Zara Thehar Jao
Meray Halaat Badalnay Tak Zara Thehar Jao

Hum Apni Zaat Mein Bohat Bikhray Hain Bohat Tootay
Bas Meray Sambhalnay Tak Zara Thehar Jao

Meray Dill K Aangan Mein Udassi Ka Andhayra Hai
Talo-E-Sehar Honay Tak Zara Thehar Jao

Tumharay Saath Chalna Hy Mujhay Bhi Meray Humdam!
Meray Qadam Bharrhnay Tak Zara Thehar Jao

Qismat Ki Lakeero'n Say Hum Tumhay Churaa Len Gay
Dast-E-Duaa Uthanay Tak Zara Thehar Jao

Bohat Dushwaar Hai Tumharay Bin Mera Jeena
Meri Yeh Baat Samjhnay Tak Zara Thehar Jao

Phir Shayed K Milnay Ka Na Imkaa'n Rahay Koi
Tum Nazaro'n Me Samonay Tak Zara Thehar Jao

Tum Hasil-E-Jaa'n Ho Tumhi Haraf-E-Duaa Meray
Suno Meray Honay Tak Zara Thehar Jao

Tumhen Tu Lout Jana Hai Chalo Lout Jana Tum
Bas Ye Shaam Dhalnay Tak Zara Thehar Jao

Okat-E-Hijar Bhi Koi Azaab Hain Lekin
Uss K Awaaz Denay Tak Zara Thehar Jao

Itni Ujlat Bhi Kiya Hai Amber Tumhen Bicharrnay Ki
Uss K Lout Aanay Tak Zara Thehar Jao!!!
 

Rate it:
Views: 585
24 Aug, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL