آ تجھے حال دل سنا نہ دوں ؟؟

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

عشق کا معجزہ دکھا نہ دوں ؟
آ تجھے حال دل سنا نہ دوں ؟

تیری ان بھیگی بھیگی پلکوں پہ
آس کے دیپ کچھ جلا نہ دوں ؟

کیا ہے میرے جنوں کا اوج کمال
آئینہ آپکو دکھا نہ دوں ؟

بانجھ سی ہو رہی ہے ارض چمن
پیار کے اشک دو گرا نہ دوں ؟

بند مٹھی میں ہیں جو خواب میرے
اب انہیں وقت میں دبا نہ دوں ؟

آپ ہی ہو میرے وجود کا نام
تو اپنے آپ کو دعا نہ دوں؟

بہت تاریکیاں ہیں راہوں میں
ہاتھ میں یاد کا دیا نہ دوں ؟

بڑی ویران ہے فضائے گلشن
کونپلیں پھر نئی کھلا نہ دوں ؟

خود سوئے دار چل پڑے دنیا
ایسی اک خوشنما سزا نہ دوں؟

گھروندہ کھیل ہی کا حصہ تھا
ریت سے نقش بھی مٹا نہ دوں ؟

ہیں میری دسترس میں چاند تارے
تیرے دامن پہ بھی سجا نہ دوں ؟

تم ابھی اک ادھورا مصرعہ ہو
سوچ لو ۔ غزل ہی بنا نہ دوں؟

Rate it:
Views: 513
23 Sep, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL