آ تجھے حال دل سنا نہ دوں ؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillعشق کا معجزہ دکھا نہ دوں ؟
آ تجھے حال دل سنا نہ دوں ؟
تیری ان بھیگی بھیگی پلکوں پہ
آس کے دیپ کچھ جلا نہ دوں ؟
کیا ہے میرے جنوں کا اوج کمال
آئینہ آپکو دکھا نہ دوں ؟
بانجھ سی ہو رہی ہے ارض چمن
پیار کے اشک دو گرا نہ دوں ؟
بند مٹھی میں ہیں جو خواب میرے
اب انہیں وقت میں دبا نہ دوں ؟
آپ ہی ہو میرے وجود کا نام
تو اپنے آپ کو دعا نہ دوں؟
بہت تاریکیاں ہیں راہوں میں
ہاتھ میں یاد کا دیا نہ دوں ؟
بڑی ویران ہے فضائے گلشن
کونپلیں پھر نئی کھلا نہ دوں ؟
خود سوئے دار چل پڑے دنیا
ایسی اک خوشنما سزا نہ دوں؟
گھروندہ کھیل ہی کا حصہ تھا
ریت سے نقش بھی مٹا نہ دوں ؟
ہیں میری دسترس میں چاند تارے
تیرے دامن پہ بھی سجا نہ دوں ؟
تم ابھی اک ادھورا مصرعہ ہو
سوچ لو ۔ غزل ہی بنا نہ دوں؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






