آ چھپا لے تو محبت سے مجھے بانہوں میں

Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

تیری زلفوں کی مہک سانسوں میں بستی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا

تو بہت دور ہے جذبات دکھاؤں کیسے
پیار کرتا ہوں مگر تجھ کو بتاؤں کیسے
تیری خاطر جو حسیں گیت لکھے ہیں میں نے
سوچتا ہوں کہ انھیں گا کے سناؤں کیسے

میرے بولوں میں تری یاد تڑہتی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا

کاش کہہ پاؤں تجھے جو میں کبھی کہہ نہ سکا
تیرے بن ایک بھی پل دل کو سکوں رہ نہ سکا
گو پکارا مجھے کتنے ہی حسیں چہروں نے
پر کبھی حسن کی موجوں میں یہ دل بہہ نہ سکا

ساحل دل سے تو اک موج ہی ملتی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا

منتظر بیٹھا ہوں کب سے میں تری راہوں میں
آچھپا لے تو محبت سے مجھے بانہوں میں
آ کہ چھائے ہیں مری روح پہ غم کے بادل
ڈوب نہ جائے مری زیست کہیں آہوں میں

میرے سینے میں بس اک آگ سی جلتی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا

Rate it:
Views: 1846
09 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL