آ کہ تُو تو ہے وَرْد کی خُوشبُو

Poet: وَرْد بزمی By: Ward Bazmi , Islamabad

آ اُسی جھیل کے کنارے آ
آ مِرے پیار کے سہارے آ

آ کہ ٹُوٹے سکُوت لہروں کا
آ کہ بہنے لگیں یہ دھارے آ

آ کہ دِل کو قرار آجائے
آ کہ دِل بولے، آرے آرے آ

آ کہ بانہیں کُھلی ہُوئی ہیں مِری
آ مِری جان سے بھی پیارے آ

آ کہ تِیرہ شبی نے گھیرا ہے
آ مِری شب کے پریم تارے آ

آ کہ جذبوں کی تُو ضرورت ہے
آ سُخنوَر کے اِستعارے آ

آ مُجھے کامیاب کرنے کو
آ مِرے بخت کے ستارے آ

آ کہ اب دُور رہ نہیں سکتے
آ کہ تُم جیتے، ہم ہیں ہارے آ

آ اُسی باغ میں چلیں پھر سے
آ بہاروں کے ہیں اِشارے آ

آ اُسی کیفے ٹیریا میں پھر
آ چلیں تشنگی کے مارے آ

آ کہ بے رنگ ہو گیا جیون
آ کہ رنگین ہوں نظارے آ

آ کہ تعبیر کی ہے رُت آئی
آ لِئیے خواب ساتھ سارے آ

آ کہ تُو تو ہے وَرْد کی خُوشبُو
آ تُجھے وَرْد ہے پُکارے آ

Rate it:
Views: 587
10 Jun, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL