مری خُوشبو پلٹ کر آبھی جاؤ

Poet: وَرْد بزمی By: Ward Bazmi , Islamabad

کھڑا ہُوں آج بھی پلکیں بچھا کے
چراغِ عشق سینے میں جلا کے
قدم بوسی کی خواہش آج بھی ہے
بلاتے ہیں تمہیں رستے وفا کے
نہ اِن کے ضبط کو اب آزماؤ
مری خُوشبو پلٹ کر آبھی جاؤ

وہی رستے جہاں ہم ہم قدم تھے
جو رستے برتر از خُلد و ِارَم تھے
وہ رستے کاٹتے ہیں آج مجھ کو
جو تیرے سنگ کل محوِکرم تھے
مرے سنگ آؤ راہوں کو سجاؤ
مری خُوشبو پلٹ کر آبھی جاؤ

مِری جاں میری باہیں مُنتظر ہیں
مِری جاں ساری راہیں مُنتظر ہیں
تمہاری دید کی اک آس لے کر
یہ پتھرائی نگاہیں مُنتظر ہیں
خدارا اِن کو اب صورت دکھاؤ
مری خُوشبو پلٹ کر آبھی جاؤ

ہے ایسا وَرْد اور خوشبو کا رشتہ
ہو جیسے دل سے اللہ ہُو کا رشتہ
تُم اِس رشتے کی کچھ تو لاج رکھو
بنا دو پیاس کا اور جُو کا رشتہ
کسی صُورت یہ پیاس آکر بجھاؤ
مری خُوشبو پلٹ کر آبھی جاؤ

Rate it:
Views: 667
10 Jun, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL