آ کہ دل آج رکھ لے نظاروں کا بھی
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiآ کہ دل آج رکھ لے نظاروں کا بھی
نہ گذر جائے موسم بہاروں کا بھی
جب پڑے کچھ کڑا وقت تو اے جاں مری
حوصلہ دیکھنا غم کے ماروں کا بھی
قافلے چل پڑے دھول اڑنے لگی
کچھ نشاں نہ ملا ریگ زاروں کا بھی
ظلم کی تیرگی پھیلتی ہی گئی
زرو کچھ نہ چلا چاند تاروں کا بھی
شب گذ یدہ سحر ایک ساعت بھی رک
دل بھرا نہ ابھی غم کے ماروں کا بھی
مشتہر کر نہ دیں کو چہ ء یار میں�
اب بھروسہ نہیں راز داروں کا بھی
مقتلِ شب میں تنہا گیا میں نثار
کچھ پتہ نہ چلا جاں نثاروں کا بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






