ڈھلنے لگی ہے رات کوئی بات کیجئیے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKڈھلنے لگی ہے رات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
سویا ہے چاند اور ستارے بھی سو گئے
مہکے ہوئے حسین نظارے بھی سو گئے
سوئی ہے کائنات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
کرتا نہیں ہے وقت کسی کا بھی انتظار
لمحوں پہ ہو سکا نہ کسی کا بھی اختیار
ہے مختصر حیات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
بیٹھے رہیں گے آپ اگر ہم سے یوں خفا
کردے گا وقت پھر سے ہمیں آپ سے جدا
ہاتھوں میں لے کے ہاتھ کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
ڈھلنے لگی ہے رات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






