آؤ سوچیں
Poet: Nawaz By: Bin Muhammad, dil seدرہم برہم دونوں سوچیں مل جل کر ہم دونوں سوچیں
زخم کا مرہم دونوں سوچیں، سوچیں پر ہم دونوں سوچیں
گھر جل کر راکھ ہوجائے گا جب سب جل کا خاک ہوجائے گا
تب سوچیں گے سوچو آخر کب سوچیں گے
اینٹ اور پتھر راکھ ہوئے ہیں دیوار و در راکھ ہوئے ہیں
ان کے بارے میں بھی سوچو جن کے چھپر راکھ ہوئے ہیں
بے بال و پر ہوجائیں گے جب خود بے گھر ہوجائیں گے
تب سوچیں گے سوچو آخر کب سوچیں گے
فاقے سے مجبور مرے ہیں محنت کش مزدور مرے ہیں
اپنے گھر کی آگ میں جل کر بے نام اور مشہور مرے ہیں
ایک قیامت در پر ہوگی موت ہمارے سر پر ہوگی
تب سوچیں گے سوچو آخر کب سوچیں گے
ماں کی آہیں چیخ رہی ہیں ننھی آہیں چیخ رہی ہیں
قاتل اپنے ہمسائے ہیں سونی راہیں چیخ رہی ہیں
رشتے اندھے ہوجائیں گے گونگے بہر ہوجائیں گے
تب سوچیں گے سوچو آخر کب سوچیں گے
کیسی بدبو پھوٹ رہی ہے پتی پتی ٹوٹ رہی ہے
خوشبو سے ناراض ہیں کانٹے گل سے خوشبو روٹھ رہی ہے
خوشبو رخصت ہو جائے گی باغ میں وخشت ہو جائے گی
تب سوچیں گے سوچو آخر کب سوچیں گے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






