آؤ کھو جائیں یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آؤ سو جائیں یہاں ( ایک دوگانا)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistan

شاہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آؤ کھوجائیں یہاں ، آؤ کھو جائیں یہاں
سونیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آؤ سو جائیں یہاں ، آؤ سو جائیں یہاں

شاہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جواں رات ، حسیں چاند ، وہ رم جھم کی صدا
اور تنہائی میں لپٹی ہوئی خاموش فضا

آؤ کھو جائیں یہاں، آؤ کھو جائیں یہاں

سونیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہکے بہکے سے خیالات ، جوانی کا نشہ
آ رہا ہے ترے پہلو میں محبت کا مز ہ

آؤ سو جائیں یہاں ، آؤ سو جائیں یہاں

شاہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دور جھرنوں سے برستے ہوئے پانی کی صدا
وہ چمکتے ہوئے تارے ، یہ نظارے یہ ہوا

آؤ کھو جائیں یہاں ، آؤ کھو جائیں یہاں

سونیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوش نصیبی ہے مری تجھ سا جو محبوب ملا
ہو گئی پوری جو مانگی تھی کبھی میں نے دعا

آؤ سو جائیں یہاں ، آؤ سو جائیں یہاں

آؤ کھو جائیں یہاں، آؤ کھو جائیں یہاں
آؤ سو جائیں یہاں ، آؤ سو جائیں یہاں

میں نے گیت نگاری کا جو سلسلہ شروع کیا اسے میرے اکثر دوستوں اور پڑھنے والوںکی طرف سے اچھا رسپونس ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گیت بھی ایک خوبصورت صنف سخن ہے اور کسی دور میں شعرا ء کرام نے بہت شاندار گیت تخلیق کیے مگر آہستہ اس کا کلاسک حسن ماند پڑتا گیا اور گیتوں میں وہ پہلی سی بات نہ رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری کوشش ہے کہ اس صنف سخن کو پھر سے اس کا جائز مقام عطا کیا جائے کہ ہر طرح کے احساسات و جذبات کے اظہار و بیاں کے لیے اس جیسی کوئی اور صنف شاعری میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے گیتوں کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کرنے کا سوچا ہے کہ اس کے شروع میں مختصر سی منظر نگاری کر دی جائے تاکہ پڑھنے والے گیت کے پس منظر اور سچوئیشن کو سمجھ کر زیادہ لطف اٹھا سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ

اس گیت کا منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا وقت ، چاندنی پھیلی ہوئی ۔ایک خوبصورت وادی جہاں جھرنوں کی جلترنگ سنائی دے رہی ہے اور ایسے میں دو پیار کرنے والے دل ایک محبت بھرا گیت گا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لڑکے کا نام شاہد اور لڑکی کا نام سونیا تصور کیا جائے جو فرضی کردار ہیں۔

Rate it:
Views: 684
08 Mar, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL