آئی ہے رات چاند ستارے لیے ہوئے ( دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanنوید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی ہے رات چاند ستارے لیے ہوئے
کچھ حسن و عشق کے بھی نظارے لیے ہوئے
پہلو میں آپ آئے تو مستی سی چھا گئی
جو دل میں بات تھی وہی ہونٹوں پہ آگئی
آنکھیں بھی آپ کی ہیں اشارے لیے ہوئے
کچھ حسن و عشق کے بھی نظارے لیے ہوئے
آئی ہے رات چاند ستارے لیے ہوئے
کچھ حسن و عشق کے بھی نظارے لیے ہوئے
نازیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوفان زندگی میں کنارے لیے ہوئے
آپ آئے اپنے ساتھ سہارے لیے ہوئے
ہم آپ کے قریب جو آنے لگے ہیں آج
شرما کے اپنی پلکیں جھکانے لگے ہیں آج
دل میں ہے پیار نور کے دھارے لیے ہوئے
آپ آئے اپنے ساتھ سہارے لیے ہوئے
طوفان زندگی میں کنارے لیے ہوئے
آپ آئے اپنے ساتھ سہارے لیے ہوئے
نوید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی ہے رات چاند ستارے لیے ہوئے
کچھ حسن و عشق کے بھی نظارے لیے ہوئے
نازیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوفان زندگی میں کنارے لیے ہوئے
آپ آئے اپنے ساتھ سہارے لیے ہوئے
منظر۔۔۔۔رات کا وقت اور کسی خوبصورت مقام پر دو محبت کرنے والے ایک پیار بھرا گیت گا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے فرضی نام نوید اور نازیہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






