آئینے سے نہ پوچھ کہ تُو کتنی حسین ہے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaآئینے سے نہ پوچھ کہ تُو کتنی حسین ہے
مجھ سے پوچھ میں ترے بارے بتا دُوں
ترے چہرے کا نُور شبِ مہتاب جیسا
آنچل کے موتیوں کو ستارے بتا دُوں
ریشمی زلف کو بتا ؤں کسی وادی کی آبشار
ہواؤں کی چال ترے اشارے بتا دُوں
دیدار ترا کسی پَری سے کم نہیں
تری مسکراہٹ کو گلشن کی بہاریں بتا دُوں
آئینہ بھی تجھے بد نیتی سے دیکھتا ہے
راز آئینے کے بھی میں سارے بتا دُوں
تجھ میں ہر خوبی پائی جاتی ہے جہاں کی
نظامِ کائنات کے عنا ظر چارے بتا دُوں
آئینہ بھی جھوٹ بول سکتا ہے میری جان!
میری نگاہوں میں دیکھ ترے نظارے دکھا دُوں
نازل ہوا تھا حُسن تجھے پے برسوں پہلے
حسن والے تجھے سوچ جو ہارے بتا دُوں
کومل لبوں کی نرمی گلاب کی پہلی پنکھڑی
نحرہ بھی ترا غجب ، جو مارے بتا دُوں
تجھے اپنے نام کی بھی خبر نہیں ہو گی
نہال کومل پَری کوئی خاص پکارے بتا دُوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






