ردیف و قافیہ ،حد بندی سے بیگانہ ہوں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaردیف و قافیہ ،حد بندی سے بیگانہ ہوں
میں شاعر نہیں میں تو دیوانہ ہوں
اُلجھے ہوئے ہیں لفظِ غزل سارے میرے
بے معانی میں تو اِک افسانہ ہوں
شعر و شاعری سے میرا کوئی تعلق نہیں
میں اِس عظیم فن سے بیگا نہ ہوں
سا، رے، گا، ما، دھا، نی، سا
الاپ ہوں راگ ماروا کا ترانہ ہوں
یاد کر کے جسے کوئی فائدہ ہی نہیں
خیالِ ماضی ہوں کوئی راز پرانہ ہوں
اُسے کیا لینا دینا میری زندگی سے
وہ مستقبل اور میں بیتا زمانہ ہوں
کومل پَری کوئی خاص مضمون ہے میرا
میں شعر نہیں مگر مزاج شعرانہ ہوں
کہانیاں لوگ تمہیں سناتے ہیں جس کی
نہال جی میں وہی اُجڑا ہوا آشیانہ ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






