رات کے ہونے سے پہلے رات کیوں ہونے کو ہے
Poet: shaheenawan By: shaheenawan, haripurرات کے ہونے سے پہلے رات کیوں ہونے کو ہے
زندگی بے وقت ،بے اوقات کیوں ہونے کو ہے
سوکھا تھا جو شاخ شجر سے جھڑ گیا
خشک اب شاخ شجر پر پات کیوں ہے
دے رہے تھے ہم دلاسے ایک دوجے کو
جیت کے آثار تھے اب مات کیوں ہونے کو ہے
یہ جدائی کی گھڑی ہے مسکرا کے بات کر
تیری ہنستی آنکھوں میں برسات کیوں ہونے کو ہے
بات جو اس نے کہی وہ بات میں نے مان لی
مجھ سے اب ناراض وہ بے بات کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







