آج اک بغاوت کا مزا چکھتا ہوں میں
Poet: Asrar Ahmad Adraak By: Asrar Ahmad Adraak, Rawalpindiآج اک بغاوت کا مزا چکھتا ہوں میں
ہاں ایسا ہی کچھ ظرف رکھتا ہوں میں
تیری شکائت بجا میں نے کچھ نہ کیا
چل دیکھ پھر آج کیا کرتا ہوں میں
تو کبھی خرید نہ پایا تھا مجھے لیکن
تیری خاکِ پا کے عوض آج بکتا ہوں میں
خزاں رسیدہ پتوں میں خطوں کا دھواں ہے
تیری یادوں کے سنگ آج بکھرتا ہوں میں
اگر جرات ہے تو بھی لکھ دے ایسا ہی
نام کے سنگ نام تیرا لکھتا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






