آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا
Poet: اکمل نوید By: اکمل نوید , Karachiصدیو ں سے تھر کی تپتی ریت پر
مور اپنےرقص کرتے رنگوں کو
قوس و قزح کی صورت زمین پر بکھر رہے ہیں
آج حد نظر تک
کوئی بھی پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتا نظر نہیں آ رہا ہے
زیست کی نمی
پاتال کی گہرائیوں میں کہیں چھپ گئی ہے
جہاں تک پہنچتے پہنچتے
درختوں کی صدیوں تک پھیلی جڑیں
اپنا وجود کھو تی جارہی ہیں
تپتے صحرا میں نمو پاتی زندگی
گہرے رنگوں کے آنچلوں کے پیچھے خاموش ہے
گہری کالی آنکھیں آج خود سے بہت ناراض ہیں
ان کے لب سلے ہوئے ہیں
کوئی بھی چیخ شکوہ بن کر ان کے ہونٹوں سےنہیں گرتی
ماؤں کی بھوکی کوکھ سے
ان کی اجڑی گود تک
درختوں سے ٹوٹے ہوئے پھولوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں
وہ چیخ جو گھٹن بن کر
ان کے زندہ وجود کو نگلتی جار رہی ہے
کانٹوں کی فصل بن کر
ان چھوئے احساس کو لہولہاں کر رہی ہے
جن پھولو ں کو ماؤں کی گود سے اتر کر
بھوک اور غربت کے سیاہ زندانوں سے ٹکرانا تھا
انہو ں نے اپنی پیاس کو ہمیشہ ریت کی صراحی میں قید پایا
آج وہ اپنی ہی سانسوں کی ڈور سے الجھ کر دم توڑ رہے ہیں
آج تھر کا صحرا
بارشوں کے جل تھل کے انتظار میں تھک کر
ہمارے خوابوں کی دہلیز تک پہچ گیا ہے
اس کے پہلے کہ
خواب اور نیند
مو ت کی خاموشی کو چھو لیں
ہمیں جاگنا ہو گا
اکمل نوید (anwer7star)
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






