آج میں نے جب تمہیں دیکھا تو دل جھوم اٹھا
Poet: saifullah By: saifullah, islamabadآج میں جب تمہیں دیکھا تو دل جھوم اٹھ
تونے رخ مہتاب جو اٹھایاتو دل جھوم اٹھ
ترے حسن کی جھلک دیکھی ہے بہت عرصے بعد
جیسے کیا میں نے چاند کا نظارا بہت عرصے بعد
تیری نیلی چمکتی آنکھوں سے جو تیر نکلے
لگا عشق کا نشانا بہت عرصے بعد
اک طرف ہو رہی ہے آذاں اور اک طرف ہے تو
اب تو ہی بتا میں جاؤں تو جاؤں کہاں
خدا تو رحمن ہے بخش دے گا لیکن
تیرے پاس ہے اول آنا بہت عرصے بعد
دعا ہے اس طرح ہنستے رہو تم سیف
چاند ہو جیسے جوبن پہ سارا بہت عرصے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






