منتظر ہوں میں تیری برسوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائشیامنتظر ہوں میں تیری برسوں سے
آشنا ہو نہ شب کے رستوں سے
تیری باتوں پہ اعتبار کیا
بھول جانا نہ آج وعدوں سے
تو محبت کی پھر گواہی دے
پھول کھلتے نہیں ہیں باتوں سے
زندگانی سے پیار کیا کرنا
کٹ ہی جائے گی تیری یادوں سے
محو حیرت سے دنگ رہتی ہوں
خوشبو آتی ہے جب دریچوں سے
کیسے تجھ پہ بھی اعتبار کروں
سانپ ڈستے ہیں آستینوں سے
ان میں چاہت کے پھول زندہ ہیں
دوستی ہے مری کتابوں سے
سب کی پگڑی اچھال کر بھی یہاں
کیسے رہتے ہیں وہ حجابوں میں
جس نے لوٹا ہے ساری دنیا کو
نام اس کا ہے اب نوابوں میں
سب کی پگڑی اچھال کر بھی یہاں
پیار کرتا ہے وہ حجابوں سے
لوٹ کھایا ہے ساری دنیا کو
خوف آتا ہے اب نوابوں سے
وشمہ رانی تو چھوڑ باتوں کو
آؤ چلتے ہیں اب ستاروں سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






