رات ہوئی تنہائی ہوئی
ویرانوں میں کہیں کسک ہوئی
یادوں کی
یہ رات بھی گزر جائے گی
لیکن
کل پھر آئے گی
اداسی کی کشتی پہ سوار
ویرانوں کی موجوں پہ
یادوں کا دروازہ کھٹکھٹائے پوچھے گی
آج کون سا قصہ چھیڑوں
آج کچھ ایسا درد دو اے رات
کہ کل نہ ہو
آج کچھ ایسا کہو کہ یہ
کشتی ڈوب جائے
موجیں ٹهر جایئں
اور دروازہ نہ کھلے
اگر ایسا ہوجائے تو
اے رات
سکون کی نیند سو جائینگے ہم
سکون کی رات ہو جاؤ گی تم