آج ہوا تیز ہے
Poet: Saeed Akhter Rahi By: Saeed Akhter Rahi, karachiتم دریا پار نہ کرنا آج ہوا تیز ہے
اور زلف نہیں لہرانا آج ہوا تیز ہے
اگر باتوں سے تمہارے پھول جھڑتے ہوں
تم گفتگو نہیں فرمانا آج ہوا تیز ہے
ممکن ہے ہواؤں آج گدگدی سی بھر جائے
خدارا نہ مسکرانا آج ہوا تیز ہے
کوئی پیغام اگر ہے تو ای میل ہی کر دو
آج پتنگ نہیں اڑانا آج ہوا تیز ہے
میری یادوں کے تم آنسو پونچھ کر آنچل
چھت پر نہیں سکھانا آج ہوا تیز ہے
جانے کہاں کہاں یہ اڑاتی پھرے ہمیں
میرے خوابوں میں نہ آنا آج ہوا تیز ہے
میرے قبر کا آج نشان بھی تو نہ ہوگا
ملک الموت نہ آنا آج ہوا تیز ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






