ان کا لہجہ رباب سے بڑھ کر
Poet: Farida Lakhani By: Shazia Hafeez, Attockان کا لہجہ رباب سے بڑھ کر
ہر ادا ہے شباب سے بڑھ کر
یوں تو معصوم ہیں بہت لیکن
شوخیاں ہیں عذاب سے بڑھ کر
عارضوں پر ہے شام کی سرخی
ہونٹ ان کے گلاب سے بڑھ کر
دل کے شیشے میں اور کیا ہو گا
اس حسین ماہتاب سے بڑھ کر
وہ جو اس کے بنا گزاری ہے
زندگی تھی عذاب سے بڑھ کر
ان کی چپ میں ہزار قصے ہیں
خامشی تھی کتاب سے بڑھ کر
کیا کسی سے وہ مل کے آئے ہیں
لگ رہے ہیں نواب سے بڑھ کر
کہہ دو ان سے فرح کوئی نہیں
دل میں میرے جناب سے بڑھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







