آخر آیا کون ہے

Poet: Ansa tabsaum By: ansa, karachi

آخر یہاں آیا کون ہے
سردی کے موسم میں
گھر کے ننھے انگن میں
میری خود سے لڑائی ہے
اک محفل سجائی ہے
جس میں مجرم میں ہی ہوں
سزا بھی مجھ کو دینی ہے
گواہ بھی میں ہوں
تماشا اپنا میں ہی ہوں
سن رہی ہوں دیر سے میں
مدعا بھی آخر جھگڑا کیا ہے
دل کو دیکھتی ہوں جھانک کر
تزکرہ کس کا تبصرہ کیا ہے
کسی نے زبان کے نشتر سے
کاٹا ہے من کی نرمی کو
تیز کر دیا کیونکر
میری زبان کی گرمی کو
ساری کتھا سنی ہم نے
پھر فیصلہ سنایا ہے
اپنے دل کو بڑی مشکل سے
کنول کچھ یوں سمجھایا ہے
جواب کردار سے دیتے ہیں
زبان چلانا فضول ہے
بےکار لوگوں کا یہاں
روز کا معمول ہے
دوسروں پر تذکرہ کرنا
دوسروں پر تبصرہ کرنا
ہمارا فیصلہ ہے کہ
سردی سمیٹ کر دل میں
گرم کرو تم محفل کو
انجمن کو احساس تو ہو
آخر یہاں آیا کون ہے

Rate it:
Views: 438
17 Nov, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL